.

امریکی انتظامیہ لبنان میں قوی شراکت داروں سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور اُس پر انحصار کرنے والے لبنانیوں پر مایوسی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لبنان میں حالیہ پارلیمانی انتخابات کے بعد بھی لبنانیوں کو کوئی ایسا راستہ نہیں مل سکا جس کے ذریعے وہ ملک کو حزب اللہ ملیشیا کے قبضے سے آزاد کرا لیں یا علاقائی صورت حال کے پنڈولم سے لبنان کی جان چھڑا لیں۔

امریکیوں نے لبنان میں پارلیمانی انتخابات وقت پر کرانے کے سلسلے میں بہت زور دیا تھا۔ تاہم اب وہ نئی حکومت کی تشکیل کے لیے کسی جلدی کا اظہار نہیں کر رہے ہیں بلکہ امریکا کے سرکاری بیانات میں تو بین الاقوامی پاسداریوں کے حوالے سے اضافی زور دیا جا رہا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "امریکا یہ امید کر رہا ہے کہ آئندہ حکومت ایک مستحکم اور پر امن ملک بنائے گی اور لبنانیوں کی توقعات پوری کرنے کے علاوہ مشترکہ دل چسپی کے شعبوں میں امریکا کے ساتھ کام کرے گی۔ امریکا اس بات کی توقع رکھتا ہے کہ لبنان میں تمام فریق بین الاقوامی پاسداریوں پر کاربند رہیں گے جن میں سلامتی کونسل کی دو قرار دادیں 1559 اور 1701 شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لبنان بیرونی تنازعات سے کنارہ کش رہنے کی پالیسی پر بھی سختی سے قائم رہے گا"۔

گزشتہ دو برسوں میں امریکا نے لبنانیوں کے ذریعے بعض مطالبات پر عمل درامد کی کوشش کی تاہم اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ پہلا مطالبہ اس بات کو یقینی بنانے کا تھا کہ لبنان شام سرحد کے راستے داعش کے جنگجوؤں کی آمد و رفت کو روکا جائے۔ لبنانی فوج اس میں کامیاب ہو گئی مگر وہ سرحد کے راستے حزب اللہ کے عناصر کی نقل وحرکت پر کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

اگلا مطالبہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ہمنوا لبنانی کارکنان کے گروپ کی جانب سے پیش کردہ خیالات کی صورت میں سامنے آیا۔ اس سلسلے میں لبنان میں "حزب اللہ سے خالی علاقوں" کے قیام کی تجویز دی گئی۔ ان علاقوں پر لبنانی فوج اور سکیورٹی فورسز کا کنٹرول ہو۔ اس حوالے سے امریکی انتظامیہ اور ٹرمپ کے قریبی مشیروں کے ساتھ تفصیلی گفتگو بھی ہوئی تاہم اس تجویز کے سلسلے میں امریکیوں کا جذبہ جلد ہی بھاپ بن کر اڑ گیا۔ یکم جون کو امریکی وزیر خارجہ کے مشیر ڈیوڈ سیٹرفیلڈ کی جانب سے لبنانیوں کو بھیجے گئے خط میں قرار داد نمبر 1559 اور1701 پر عمل درامد کی یاد دہانی اور لبنانی فوج کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ البتہ خط میں لبنان میں "حزب اللہ سے خالی علاقوں" کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی۔

امریکی حکومت کا تیسرا مطالبہ یمن میں حوثیوں کی مدد کے سلسلے میں حزب اللہ کی سرگرمیوں پر روک لگانے کے حوالے سے تھا۔ دونوں ہی فریقوں کو ایران کی سپورٹ مل رہی ہے۔ حوثی باغی لبنان کو اپنی میڈیا سرگرمیوں کو منظّم کرنے اور عسکری تربیت کے حصول کے واسطے استعمال کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں حزب اللہ کے ارکان حوثیوں کو زمینی سپورٹ فراہم کرنے کے لیے لبنان سے یمن جاتے ہیں۔

اس مطالبے کو بھی لبنانی حکومت کی طرف سے کوئی مثبت پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی۔ یمنی وزیر خارجہ نے اپنے لبنانی ہم منصب کو بھیجے گئے ایک خط میں باور کرایا کہ اس معاملے میں لبنانی حکومت کی سپورٹ حاصل کرنے میں امریکا اور عرب ممالک کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

امریکی کیمپ اب لبنان کی صورت حال کے حوالے سے مایوسی کا شکار ہو چکا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے عہدے داران اپنی مایوسی کے اظہار میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں۔ امریکیوں نے لبنان میں شراکت دار تلاش کرنے کی کوشش کی تا کہ اپنے مقاصد کو پورا کر سکیں تاہم اب ان کا ماننا ہے کہ لبنان میں ان کا کوئی شراکت دار نہیں اور کوئی بھی ایسا بڑا سیاسی گروپ نہیں جو حزب اللہ پر روک لگانے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ تعاون کر سکے۔

امریکیوں کی جانب سے لبنانیوں کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ واشنگٹن کسی بھی ایسی وزارت کے ساتھ تعاون نہین کرے گا جس کی نگرانی "دہشت گرد تنظیم" کے پاس ہو۔ تاہم امریکیوں نے بعض وزارتوں کے ساتھ تعاون کا عندیہ دیا ہے جن میں وزارت دفاع اور وزارت داخلہ شامل ہیں۔

ایسے میں جب کہ امریکیوں کو لبنان میں کوئی شراکت دار نظر نہیں آ رہا وہ حزب اللہ کو زیادہ سے زیادہ مفلوج کرنے کی پالیسی پر انحصار کر رہے ہیں۔ اس واسطے ایران پر پابندیوں کو سخت کیا جا رہا ہے اور تہران کی مالی قدرت کو کمزور کیا جا رہا ہے تا کہ وہ اپنی ہمنوا تنظیم کو سالانہ کروڑوں ڈالر کی امداد سے نہ نواز سکے۔

امریکی انتظامیہ دنیا بھر میں حزب اللہ کی سرگرمیوں کے انسداد کے لیے بھی زیادہ متحرک ہو چکی ہے۔ اس مقصد کے لیے اسمگلنگ کی سرگرمیوں کے انسداد کے لیے مختص امریکی ریاست کے اداروں کے درمیان مشترکہ "ورکنگ سیل" کو دوبارہ فعّال بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی امریکا کے ممالک کے ساتھ پھر سے رابطہ کاری عمل میں لائی جا رہی ہے تا کہ اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ میں ملوث اُن گروہوں اور ٹولیوں کی گردن ناپی جا سکے جو سالانہ کروڑوں ڈالر حزب اللہ تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔