.

بشار کے ہمنوا اخبار کی خامنہ ای کے مشیر پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دمشق اور تہران کے درمیان پسِ پردہ اختلافات کچھ عرصے سے اعلانیہ صورت میں سامنے آ رہے ہیں تاہم اس کا اظہار صرف ایرانی جانب سے ہوا جب ایرانی میڈیا نے بشار الاسد کی حکومت کی "احسان فراموشی" کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

دو روز قبل شامی حکومت کی جانب سے اس کا جواب غیر مسبوق صورت میں بشار الاسد کے ہمنوا اخبار "الوطن" میں شائع مضمون کے ذریعے آیا۔ اخبار کا مالک بشار کے ماموں کا بیٹا رامی مخلوف ہے۔

شامی اخبار الوطن میں 15 جولائی کو شائع مضمون میں ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ کے مشیر برائے بین الاقوامی امور علی اکبر ولایتی کے اُس بیان کا جواب دیا گیا ہے جو انہوں نے 13 جولائی کو ماسکو میں ایک لیکچر کے دوران دیا تھا۔ ولایتی نے کہا تھا کہ ایران کی مدد نہ ہوتی تو بشار حکومت چند ہفتوں کے دوران ختم ہو جاتی اور اگر ایران کی موجودگی نہ ہوتی تو شام اور عراق داعش تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے زیر کنٹرول آ جاتے۔

مضمون نگار فراس عزیز دیب نے ولایتی کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ "ایک مبالغہ جو ہم بعض ایرانی ذرائع ابلاغ یا سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے سننے کے عادی ہو چکے ہیں۔ فراس نے ایرانی اخبار "کیہان عربی" کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جس نے ولایتی کا خطاب نقل کیا تھا۔

شام کی جانب یہ ردِّ عمل تاخیر سے سامنے آیا کیوں کہ بشار الاسد کے مفاد کے لیے شام میں ایران کی مداخلت کے وقت سے ہی ایرانی عہدے دار یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ "وہ چار عرب دارالحکومتوں پر کنٹرول رکھتے ہیں اور ان کا اثر و رسوخ بغداد سے لے کر دمشق کے راستے بیروت تک پھیلا ہوا ہے"۔

مضمون نگار کے مطابق ایرانی صدر سے لے کر وزراء تک قریبا تمام ہی سرکاری شخصیات مبالغہ آرائی میں مبتلا ہیں۔ اسی طرح ایرانی صدر حسن رحانی نے اپریل 2016 میں تہران میں ایک سیمینار کے دوران کہا تھا کہ "اگر ایران نہ ہوتا تو دمشق اور بغداد داعش تنظیم کے ہاتھوں میں جا چکے ہوتے"۔

شامی مضمون نگار فراس کے نزدیک ولایتی کا حالیہ بیان بہت سے تضاد اور مبالغوں پر مشتمل ہے۔

فراس نے ولایتی کی جانب سے شامی حکومت کے لیے "بشار حکومت" کے الفاظ کے استعمال کو یکسر مسترد کر دیا۔ فراس کے مطابق "یہ اصطلاح حلیفوں کے بیچ سفارتی عُرف میں موجود نہیں"۔

فراس نے ولایتی کے اس بیان کو بھی طنز کا نشانہ بنایا کہ شام میں ایرانی عسکری مشیروں کی موجودگی نے حکومت کے سقوط کو روک دیا۔ فراس نے لکھا کہ "عسکری مشیروں کے ذریعے دو ریاستوں (شام اور عراق) کے سقوط کو روک دینے کی بات کرنا حیرت انگیز ہے۔ عسکری مشیر معلومات، منصوبوں اور آپشنز میں صرف نظریاتی کردار ادا کرتے ہیں اور کچھ نہیں"۔

شامی مضمون نگار نے مزید لکھا کہ یہ جاننا کوئی بہت مشکل کام نہیں کہ درحقیقت شام کا دفاع تہران اور ماسکو کا دفاع ہے۔

فراس کے مطابق (ایرانی) عسکری مشیروں کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ شکست کو دُور کر دیں یا فتح کو گلے لگا لیں لہذا اس قولِ محال نے علی اکبر ولایتی کی بات کا اعتبار ختم کر دیا۔

ایسا نظر آتا ہے کہ بشار الاسد کے موقف کے حوالے سے ایرانیوں میں گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔ بالخصوص روس کی جانب سے وسیع پیمانے پر اُن علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد جو پہلے شامی اپوزیشن کے پاس تھے۔ اس امر نے ایرانیوں کو بشار حکومت کے حوالے سے اپنی مایوسی کا اظہار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔