.

رقّہ سے برآمد طبّی اور عدالتی دستاویزات داعشی ریاست میں حکم رانی کا نمونہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے خلاف سرگرم بین الاقوامی اتحاد نے سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے تعاون سے تنظیم کے خلاف جنگ کے چار سال مکمل کر لیے جس کے بعد داعش تنظیم آج عراقی سرحد کے نزدیک تین شامی قصبوں میں محصور ہو کر رہ گئی ہے۔

اس جنگ میں اہم ترین معرکہ داعش تنظیم کے امراء جنگ اور قائدین کو اُن کے گڑھ یعنی شام کے شہر رقّہ سے باہر نکالنا تھا۔ داعش نے رقّہ پر 2014ء کے وسط میں قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد یہ فنڈنگ، منصوبہ بندی اور دہشت گرد حملوں کے حوالے سے داعش تنظیم کا مرکز بن گیا۔

رقّہ کو آزاد کرانے کے لیے عسکری آپریشن 2016ء کے موسم گرما میں شروع ہوا اور اکتوبر 2017ء میں اس کی مکمل آزادی اور واپس لیے جانے تک جاری رہا۔

آج بھی رقّہ شہر کا دورہ کیا جائے تو داعش تنظیم کی چھوڑے ہوئے آثار یہاں وہاں نظر آتے ہیں۔ ان میں دھماکوں میں استعمال شدہ گاڑیاں اور گولہ بارود سے اڑائے گئے مکانات اور ملبوں کے نیچے پھٹی پڑی لاشیں شامل ہیں۔

ان کے علاوہ داعش کے اس سابقہ گڑھ میں مختلف مقامات سے "الدولہ الاسلامیہ" کی مہر لگے کاغذات اور دستاویزات بھی برآمد ہوئے۔ یہ دستاویزات اس دہشت گرد تنظیم کے جرائم کی توثیق کرتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے رقہ شہر کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دوران داعش تنظیم کے متعدد سابقہ مراکز کو دیکھنے کا موقع ملا۔ برآمد شدہ دستاویزات سے واضح ہوتا ہے کہ تنظیم نے ہسپتالوں، کھیلوں کے مراکز اور تفریحی مقامات کو عدالتی محکموں ، جیلوں ، عقوبت خانوں اور عسکری بیرکوں میں تبدیل کر ڈالا تھا۔

رقہ شہر کے کھیلوں کے اسٹیڈیم میں بکھرے دستاویزات داعش تنظیم کی عدلیہ سے متعلق تھے۔ ان میں نمونے کے کاغذات بھی تھے جن پر کسی کا نام نہیں تھا اور وہ قابل استعمال تھے۔

ان دستاویزات میں عدالتی فیصلوں پر عمل درامد کے احکامات اور گرفتاری کے وارنٹس کے علاوہ مقدمات سے متعلق دیگر کاغذات بھی شامل تھے۔

دستاویزات سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ داعش تنظیم کے یہاں ملزمان کے حقوق نام کی کوئی شے نہ تھی اور ان کو فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق بھی حاصل نہیں تھا۔

ان دستاویزات کے نیچے کتنے بے قصور افراد کا خون جمع ہے اور کتنے لوگوں کی زندگیوں کا انجام اکٹھا ہے جن کو بلند عمارتوں سے نیچے پھینکا جاتا تھا۔

البتہ داعش تنظیم کے مرد اور خواتین ارکان کے علاج کے مرکزی مقام نیشنل کلینک میں تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے آیا۔ جی ہاں یہاں موجود طبّی ضروریات کی رسیدوں اور بلوں سے اُس جانی نقصان کے حجم کا معلوم ہوتا ہے جس کا سامنا معرکہ آرائی کے دوران تنظیم کے جنگجوؤں کو ہوتا تھا۔

یہاں سے ملنے والے طبّی دستاویزات پر "محکمہ صحت .. رقّہ ولایت" کا لوگو موجود ہے۔ اس طبی مرکز میں علاج کے سلسلے میں اولین ترجیح شہر کے عام لوگوں کو نہیں بلکہ داعش کے جنگجوؤں کو دی جاتی تھی۔

دستاویزات میں شامل رسیدوں سے مختلف طبّی سامان کی خریداری کا پتہ چلتا ہے۔ ان میں روئی، پٹّیاں، سرجیکل بلیڈز، انجیکشنز، آپریشن میں استعمال ہونے والا anesthesia اور زخموں کے علاج کے واسطے مختلف دوائیں اور محلول شامل ہیں۔

داعش کے چھوڑے ہوئے دستاویزات میں تنظیم کا شکار بننے والی ایک نوجوان لڑکی کی میڈیکل فائل بھی موجود ہے۔ اس لڑکی کی عمر 21 برس تھی اور وہ روسی شہریت رکھتی تھی۔ فائل میں تفصیلات کے مطابق صفیہ کی عرفیت کی حامل یہ لڑکی ایک بچّی کو جنم دینے کے کچھ روز بعد فضائی بم باری میں زخمی ہو گئی تھی۔

واضح رہے کہ داعش تنظیم نے شام میں رقّہ اور عراق میں موصل شہر پر قبضے کے بعد وہاں سرکاری دستاویزات کی طباعت کے لیے مختص کئی چھاپہ خانوں کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ اس طرح داعش نے "الدولہ الاسلامیہ" کے لوگو کے ساتھ معمولی ترمیم کر کے مختلف نوعیت کے مالیاتی، طبِّی اور عدالتی کاغذات اور دستاویزات اپنے زیر انتظام اداروں میں استعمال کے واسطے تیار کر لیے۔