.

عراق: عوامی احتجاج کے 11 روز میں 8 افراد ہلاک اور 60 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں مرکزی حکومت ملک کے جنوب میں عوامی احتجاج کی آگ بجھانے کے لیے کوشاں ہے جو آٹھ جولائی سے بھڑکی ہوئی ہے۔ اس دوران 8 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں جب کہ 60 زخمی بھی ہوئے۔

عراقی وزارت صحت کے مطابق ہلاکتوں کی وجہ مظاہروں کے دوران ہنگامہ آرائی اور بلوے کی کارروائیاں ہیں۔

ادھر عراقی حکام کے نزدیک یہ مظاہرے مصنوعی طور پر بھڑکائے گئے ہیں اگرچہ احتجاج کرنے والوں کے مطالبات درست ہیں۔

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے زور دیا ہے کہ حکومت کی تشکیل کا عمل تیز کیا جائے تا کہ مظاہرین کی جانب سے طلب کی جانے والی خدمات فراہم کی جا سکیں۔

عراقی وزارت داخلہ کے سرکاری ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحیی رسول کے مطابق عراقی فورسز شہریوں کی جانوں کی حفاظت، مظاہروں کو محفوظ بنانے اور سرکاری اور نجی املاک کو بچانے کے واسطے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا رہی ہیں۔

اس طرح کی بھی معلومات ہیں کہ حکومت عراقی وزارتوں کے اُن نمایاں عہدے داروں کی برطرفی کا ارادہ رکھتی ہے جن کے نام مظاہروں کے دوران بار بار لیے جا رہے ہیں۔ بعد ازاں انہیں عدالتی کارروائی کے لیے بھی پیش کیا جائے گا۔

اخباری ذرائع کے مطابق عراقی حکومت کی جانب سے جن اصلاحات پر عمل درامد متوقع ہے ان میں ملک کے جنوبی اور وسطی صوبوں کے لیے رقوم کا مختص کیا جانا اور گیس اور تیل کی غیر ملکی کمپنیوں کو اس امر کا پابند بنانا ہے کہ اُن کی نصف ورک فورس عراقی شہریوں پر مشتمل ہو گی۔

دوسری جانب عراق کو پھر سے توانائی فراہم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہو جانے کے بعد بغداد حکومت کے وزارتی سطح کے دو وفد سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں تا کہ عراق کو توانائی اور خدمات فراہم کی جا سکیں۔