.

کاغذی جہازوں کا بہانہ بنا کر اسرائیل غزہ پر جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے

غزہ کے خلاف اسرائیلی پابندیاں اور محاصرہ انسانیت کے خلاف جرم ہیں: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں مقامی شہریوں کی طرف سے اسرائیل پر آتش گیر کاغذی جہاز اور گیسی غبارے چھوڑنے پر صہیونی ریاست سیخ پا ہے اور اس نے غزہ پر وسیع جنگ مسلط کرنے کی دھمکی دی ہے۔

سرکاری اسرائیلی ذرائع کے مطابق تل ابیب نے مصر کے توسط سے اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کو تنبیہ کی ہے کہ اگر غزہ کی پٹی کی مشرقی سرحد سے گیسی غباروں اور آتشی کاغذی جہاز چھوڑنے کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو اسرائیل غزہ کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرے گا۔

دوسری جانب حماس نے اسرائیل کی طرف سے دھمکی آمیز پیغام یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ آتش گیر کاغذی جہاز اڑانے والے عام شہری ہیں جن کا حماس سے کوئی تعلق نہیں۔

ناکہ بندی مزید سخت کر دی گئی

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی کو ایندھن کی سپلائی بند کردی ہے۔ غزہ میں شہریوں کی جانب سے غباروں کی وجہ سے صہیونی ریاست کی حدود میں فصلوں سمیت اہم تنصیبات میں آتش زنی کے تازہ واقعات کے بعد اسرائیل نے سامان کی ترسیل کے واحد راستے’کرم ابو سالم‘ گذرگاہ پر پابندیوں کو مزید سخت کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گذرگاہ کے راستے سے اب اتوار تک ایندھن کی ترسیل ممکن نہیں ہو گی تاہم خوراک اور ادویات کو بھیجنے کی اجازت ہو گی۔

اسرائیل کے وزیر دفاع لائیبرمین کا کہنا ہے کہ یہ حماس کی جانب سے ’مسلسل کی جانے والی پرتشدد کارروائیوں‘ کا جواب ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی حکام نے غزہ کی پٹی کے ماہی گیروں کو چھ سمندری میل تک مچھلیاں پکڑنے کی اجازت دینے کے بجائے انہیں تین میل تک محدود کر دیا ہے۔

دوسری جانب حماس نے اسرائیل کی طرف سے انتقامی کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ حماس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی ریاست کا غزہ کی پٹی کو بنیادی ضرورت کے سامان کی ترسیل روکنا ’انسانیت کے خلاف‘ جرم ہے۔

ادھرغزہ کی پٹی کی مشرقی سرحد پر کئی ماہ سے فلسطینی گیسی غبارے اور آتش گیر کاغذی جہازوں سے اسرائیل پر حملے کر رہے ہیں۔ فلسطینیوں کا موقف ہے کہ دس سال سے جاری ناکہ بندی کے خلاف ان کے پاس یہ ایک آئینی مزاحمتی طریقہ ہے جس کا مقصد غزہ کی ناکہ بندی ختم کرانا ہے۔ کرم ابو سالم کراسنگ غزہ اور اسرائیل کے درمیان تجارتی آمد ورفت کا واحد راستہ ہے۔

اسرائیلی حکام کاکہنا ہے کہ فلسطینیوں کے آتش گیر کاغذی جہازوں کے نتیجے نتیجے میں فصلوں کو بے پناہ نقصان پہنچ رہا ہے۔ اسرائیلی فائر بریگیڈ حکام کے مطابق ایک سو دنوں میں فلسطینیوں نے 750 مقامات پر آگ لگائی جس کے نتیجے میں 26000 ایکڑ رقبے پر پھیلی فصلوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا۔ نقصان کا تخمینہ 14 لاکھ ڈالر لگایا گیا ہے۔