بیت المقدس : فلسطینی شہری اپنے ہاتھوں سے اپنے گھر گِرانے پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

فلسطینی شیری جہاد شوامر نے 18 سال قبل بیت المقدس کے قصبے بیت حنینا کے علاقے الاشقریہ میں ایک پلاٹ خریدا تھا تا کہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے ایک ٹھکانے کا بندوبست کر لے۔ تاہم اسرائیلی سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درامد کے لیے آج وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنا گھر منہدم کرنے پر مجبور ہے۔ اسرائیلی عدالت نے اس زمین کی یہودی آبادکاروں کے لیے ملکیت کی منظوری دے دی ہے۔

شوامرہ کی کہانی اس درد ناک حقیقت کی عکاسی کرتی ہے جس کا بیت المقدس میں فلسطینیوں کو سامنا ہے۔ وہ وہاں مختلف حیلوں کے سبب خود اپنے ہاتھوں سے اپنے گھروں کو گرانے پر مجبور ہیں۔ ان حیلوں میں تعمیری پرمٹ نہ ہونا یا زمین کا یہودی آبادکاروں کی ملکیت میں ہونا شامل ہے۔

بیت المقدس کے فلسطینی ان اقدامات پر اس واسطے عمل پیرا ہیں کیوں کہ اس طرح انہدام کے عمل پر اُن اخراجات سے کم لاگت آتی ہے جو قابض اسرائیلی حکام کی طرف سے مکانات گرانے کی صورت میں بیت المقدس کے فلسطینی شہری کو برداشت کرنا پڑتے ہیں اور ساتھ ہی اس پر بھاری جرمانوں کا بھی اضافہ کر دیا جاتا ہے۔

قانون اور انسانی حقوق کے حوالے سے القدس امدادی مرکز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں برس اسرائیلی فوج نے بیت المقدس میں فلسطینیوں کی 63 تعمیرات منہدم کیں۔ اس کے نتیجے میں 51 فلسطینی مرد و خواتین کو جبری ہجرت پر مجبور ہونا پڑا۔ ہجرت کرنے والوں میں 21 کم عمر افراد بھی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق قابض حکام بیت المقدس شہر میں گھروں کے انہدام کی مسلسل کارروائیوں کو وہاں کے فلسطینی باسیوں سے خالی کرنے اور ان کو جبری ہجرت پر مجبور کرنے کے واسطے استعمال کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیت المقدس میں ہزاروں فلسطینیوں کو اجازت نامہ نہ ہونے کے نام پر گھروں کے انہدام کے احکامات کا سامنا ہے۔ اس لیے کہ قابض اسرائیلی حکام کی بلدیہ منظّم طور پر فلسطینیوں کی جانب سے تعمیری پرمٹوں کے حصول کی کوشش مسترد کر رہی ہے۔

جہاد شوامرہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "آج میں اپنا گھر کود گِرا رہا ہوں جس کے بعد 18 افراد پر مشتمل خاندان کو لے کر خیمے میں جا کر رہوں گا مگر میں بیت القمدس میں ہی رہوں گا اور یہاں سے کوچ نہیں کروں گا"۔

شوامرہ کے مطابق اُس نے یہ پلاٹ ایک فلسطینی خاندان سے خریدا تھا اور بلدیہ نے اسے گھر کی تعمیر کے لیے پرمٹ کے اقدامات شروع کرنے کی اجازت بھی دے دی تھی۔ گرین سگنل مل جانے کے سبب وہ مکمل طور پر مطمئن تھا۔ تاہم یہودی آبادکاروں نے اسرائیلی عدالت میں یہ مقدمہ دائر کر کے حیران کر ڈالا کہ ان کے پاس موجود دستاویزات سے اس زمین پر 1960ء کی دہائی سے اُن کی ملکیت ثابت ہوتی ہے۔

شوامرہ کے مطابق اسرائیلی عدالت نے مختصر وقت میں مذکورہ دستاویزات کی بنیاد پر زمین کی ملکیت کا فیصلہ یہودی آباد کاروں کے حق میں دے دیا جب کہ یہ دستاویزات سو فی صد جعلی ہیں۔ اس کے بعد اسرائیلی سپریم کورٹ کا رخ کیا گیا تاہم اس نے بھی جلد از جلد ملکیت آبادکاروں کے لیے مان کر فلسطینیوں کو حکم دیا کہ وہ اس جگہ کو خالی کر دیں۔

جہاد شوامرہ کا کہنا ہے کہ "اسرائیلی عدالت، بلدیہ اور آباد کار یہ سب بیت المقدس شہر میں آبادکاری کے ایجنڈے پر عمل درامد کے واسطے ایک ہی بازو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ عدالت جانب دار ہے مگر ہم اس واسطے وہاں کا رخ کرتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے"۔

شوامرہ کے مطابق اسرائیلی آبا کاروں نے انہیں بھاری رقوم کی پیش کش کی تا کہ ہم اپنے گھروں کو منہدم نہ کریں تاہم ہم نے اس پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے گھروں کو گرانے کا فیصلہ کیا تا کہ یہ لوگ کسی صورت بھی ان سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

اس سے قبل بیت المقدس میں اراضی کی تحقیق کے مرکز کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 1967ء میں بیت المقدس کے مشرقی حصّے پر قبضے کے بعد سے اسرائیل اب تک فلسطینیوں کے 5 ہزار سے زیادہ گھروں کو منہدم کر چکا ہے۔ ان میں 40% کے قریب گھر آخری 15 برسوں کے دوران گرائے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں