سمجھوتے کے بعد شامی حکومت قنیطرہ صوبے کے پہلے گاؤں میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں سرکاری ٹی وی کے مطابق جنوب مغربی صوبے قنیطرہ کے ایک گاؤں ام باطنہ میں 10 بسیں داخل ہوئی ہیں تا کہ شامی اپوزیشن گروپوں کو وہاں سے نکال کر شام کے شمال میں پہنچانے کا عمل شروع کر دیا جائے۔ اس کارروائی میں اُن جنجگوؤں کا انخلاء شامل ہو گا جنہوں نے روس کے ساتھ شامی اپوزیشن کے تصفیے اور سمجھوتے کو مسترد کر دیا ہے۔ ان افراد کو اِدلب منتقل کیا جائے گا۔

انخلاء کا معاہدہ جن امور کا متقاضی ہے ان میں 2011ء سے پہلے کے حالات کی واپسی اور اپوزیشن جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کا شامی حکومت کے زیر انتظام آنے کو قبول کرنا یا پھر معاہدے کو مسترد کرنے والوں کا شمالی علاقوں میں منتقل ہو جانا شامل ہے۔

اس انخلاء کے ذریعے روس نے جنوبی شام میں ایک نئے علاقے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ہے۔ سمجھوتے کے تحت اپوزیشن گروپس اسرائیل کے نزدیک قنیطرہ کو حوالے کر دیں گے اور روسی عسکری پولیس شامی حکومت کی فوج کے ہمراہ وہاں داخل ہو گی۔

ام باطنہ سے انخلاء کی کارروائی ایسے وقت ہو رہی ہے جب درعا اور قنیطرہ کے بقیہ دیہی علاقوں میں شامی فوج کی وسیع پیمانے پر تعیناتی عمل میں آ رہی ہے۔

یاد رہے کہ قنیطرہ سے انخلاء کے معاہدے سے قبل شمالی صوبے اِدلب میں شامی حکومت کے ہمنوا دو قصبوں الفوعہ اور کفریا کی مقامی آبادی کا حلب کے دیہی علاقوں کی جانب انخلاء عمل میں آیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں