قطری قوم کے وسائل دہشت گردوں میں بانٹا شرمناک ہے: سلطان بن سحیم

’سعودی عرب، امارات اور بحرین قطر کے حقیقی خیر خواہ ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قطر کے حکمراں خاندان کے ناراض رہ نما الشیخ سلطان بن سحیم آل ثانی نے قطری قوم کے وسائل کو دہشت گردوں میں تقسیم کرنے کی حکومتی پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ حکومت کا قطری قوم کے پیسے اور وسائل دہشت گردوں پر خرچ کرنا انتہائی شرمناک ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ’ٹویٹر‘ پر پوسٹ ٹویٹس میں سلطان بن سحیم نے کہا کہ دوحہ حکومت قطری قوم کے سعودی عرب، امارات اور بحرین جیسے مُخلص بہی خواہوں کے بجائے حزب اللہ، حوثیوں اور النصرہ فرنٹ جیسوں کے ساتھ دوستی قائم کیے ہوئے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قطری حکومت کی طرف سے دہشت گردوں کو ایک ارب پندرہ کروڑ ڈالر کا تاوان ادا کرنا دوحہ کے دہشت گردوں کی پشت پناہی کے شرمناک طرز عمل کا واضح ثبوت ہے۔ ہم یہ استفسار کرتے ہیں کہ قطری حکومت نے قوم کا اتنا زیادہ پیسہ دہشت گردوں کو تاوان کی مد میں کیوں ادا کیا؟

الشیخ سلطان بن سحیم نے کہا کہ ہمارا ملک پر امن ریاست تھی اور اس کی اعتدال پسندی اور رواداری کی مثال دی جاتی تھی۔ حمدین نظام نے اسے دہشت گردوں کی معاون ریاست میں تبدیل کردیا ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ حکومت کو قطری قوم کے اربوں ڈالر دہشت گردوں کی معاونت کے لیے خرچ کرنے کی اجازت کس نے دی ہے۔

اپنی ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ قطری حکومت نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی مدد کی۔ دہشت گرد ملیشیاؤں کو رقوم حکومت نے فنڈز فراہم کیے۔ حکومت نے حزب اللہ، النصرہ فرنٹ اور حوثیوں سے دوستی کی حالانکہ قطر کے اصل دوست سعودی عرب، بحرین اور امارات ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں