عراق میں جاری احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق کے مقامی میڈیا نے ملک کے مختلف شہروں میں جاری احتجاجی مظاہروں میں مزید دو افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔اس طرح بصرہ اور دوسرے جنوبی شہروں میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے دوران میں اب تک مرنے والوں کی تعداد گیارہ ہوگئی ہے۔

عراقی میڈیا نے جنوبی صوبہ نجف اور دیوانیہ میں احتجاجی مظاہروں کے دوران میں تشدد کے واقعا ت میں ایک ،ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔دارالحکومت بغداد کے علاوہ وسطی اور جنوبی صوبوں میں ہزاروں عراقی شہری بنیادی خدمات کی عدم دستیابی یا ان کے پست معیار پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔انھیں سابق مطلق العنان صدر صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے پندرہ سال کے بعد بھی بجلی ، پانی ، روزگار اور زندگی کی دیگر اشیائے ضروریہ دستیاب نہیں ہیں۔

عراق سے العربیہ نیوز چینل کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ مظاہرین بغداد کے وسطی علاقے میں دوبارہ منظم ہورہے ہیں اور وہ میدان التحریر کے نزدیک جمع ہورہے تھے۔

مظاہرین نے شیعہ اکثریتی جنوبی شہروں میں سرکاری عمارتوں اور مختلف دفاتر میں گھسنے کی کوشش کی تھی ،انھیں منتشر کرنے کےلیے سکیورٹی فورسز نے گولیاں چلائی ہیں جس کے نتیجے میں دوافراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

نجف میں احتجاجی مظاہرے میں شریک ایک شخص علا المیالی نے بتایا ہے کہ ایران کے قریب سمجھی جانے والی ملیشیا بدر کے محافظوں نے مظاہرین پر فائرنگ کردی ہے جس سے پتھراؤ کرنے والا ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔

بصرہ سے عینی شاہدین نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ جمعہ کی شب صوبے میں احتجاجی تحریک نے ایک نیا رُخ اختیار کر لیا ہے اور حکومت نے مظاہروں پر قابو پانے کے لیے سریع الحرکت فورسز کو بھی میدان میں جھونک دیا ہے۔اس کے اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کردی تھی جس کے بعد ان کی مظاہرین کے ساتھ مسلح جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں