.

قنیطرہ سے انخلاء: 2800 جنگجو اور شہری حماہ صوبے پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں قنیطرہ صوبے سے منتقل کیے جانے والے سیکڑوں جنگجوؤں اور شہریوں کو ہفتے کے روز ملک کے شمال مغرب میں اپوزیشن گروپوں کے زیر کنٹرول اراضی میں پہنچا دیا گیا۔ یہ بات فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے نمائندے اور شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کی جانب سے بتائی گئی۔

اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کے متوازی صوبے قنیطرہ سے ان افراد کا انخلاء اُس معاہدے کے تحت عمل میں آیا ہے جو شامی حکومت کے حلیف روس اور علاقے میں موجود اپوزیشن گروپوں کے بیچ طے پایا۔

معاہدے کے تحت لڑائی روکے جانے کے مقابل گروپوں کو عملی طور پر ہتھیار ڈالنا ہے جب کہ شامی فوج کو اُس پوزیشن پر واپس لوٹ جانا ہے جہاں ہو 2011ء سے پہلے تھی۔

شامی انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق 2800 جنگجوؤں اور شہریوں پر مشتمل پہلی کھیپ ہفتے کی صبح حماہ صوبے کے شمالی دیہی علاقے میں مورک کی گزر گاہ پر پہنچی۔

مورک گزر گاہ پر موجود فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے نمائندے نے بتایا ہے کہ اس نے 50 بسوں کو پہنچتے ہوئے دیکھا جن میں جنگجو اور ان کے اہل خانہ سوار تھے۔

مورک پہنچنے پر تمام افراد دیگر بسوں میں سوار ہوئے جن کو ایک غیر سرکاری مقامی تنظیم نے کرائے پر حاصل کیا تھا تا کہ ان افراد کو ادلب اور حلب صوبوں میں عارضی استقبالیہ کیمپوں میں منتقل کیا جا سکے۔

المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن کے مطابق اس پہلی کھیپ میں نصف سے زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ رامی کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ انخلاء کا عمل جاری رہے گا اور قنیطرہ معاہدے کو مسترد کرنے والوں کے انخلاء کے لیے دوسری کھیپ بھی ہو گی۔