جنوبی شام میں لڑائی میں شریک ہیں، انخلاء عمل میں نہیں آیا: حزب اللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لبنان کی دہشت گرد قرار دی جانے والی ملیشیا "حزب الله" کے ایک رہ نما نے جنوبی شام میں ملیشیا کے عناصر کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ اگرچہ بشار الاسد کی حکومت نے حالیہ عرصے میں یہ بات پھیلائی تھی کہ اردن اور اسرائیل کے متوازی لبنان کے جنوب میں سیف زون میں کسی غیر ملکی ملیشیا کا وجود نہیں ہے۔

حزب اللہ کی مجلس عاملہ کے سربراہ ہاشم صفی الدین نے جنوبی شام میں اپنے جنگجوؤں کے موجود ہونے کی تصدیق کی ہے۔

شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے اخبار "الوطن" نے اتوار کو بتایا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے ایک اعزازی تقریب کے دوران صفی الدین کا کہنا تھا کہ ان کی ملیشیا "نہ تو جنوبی شام سے باہر آئے گی اور نہ شام سے کوچ کرے گی"۔

یاد رہے کہ ہاشم صفی الدین کا نام کئی ہفتوں قبل سعودی عرب اور امریکا کی جانب سے جاری دہشت گرد عناصر کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے۔ اس پر مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہونے اور شامی صدر بشار الاسد کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کی حمایت کا الزام ہے۔

یہ پہلا موقع ہے جب "حزب الله" نے درعا میں بشار الاسد کے معرکے میں داخل ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ اس سے قبل گردش میں آنے والی افواہوں میں اس کے جنوبی علاقے سے انخلاء کی بات کی گئی تھی۔

اردن میں ایرانی سفیر مجتبی فردوسی پور نے رواں برس مئی کے اواخر میں باور کرایا تھا کہ جنوبی شام میں ان کے ملک کی کوئی فورس موجود نہیں اور اس معرکے میں ان کے ملک کا کوئی کردار نہیں ہے۔

ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک شدید بم باری کے بعد روس نے جنوبی شام کے ایک بڑے حصّے پر اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا۔ اس دوران بشار کی فوج اور ایرانی ملیشیاؤں کی پیش قدمی کو سپورٹ کیا گیا جنہوں نے علاقے کے زیادہ تر حصّے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

روس کے ساتھ سمجھوتوں کے تحت شامی اپوزیشن نے اپنے زیر کنٹرول مختلف علاقوں کو حوالے کر دیا تا کہ وہ شامی حکومت کے کنٹرول میں آ جائیں جب کہ ان معاہدوں کو مسترد کرنے والوں کو شمالی شام کی جانب جبری بے نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں