حج سے روکنے والی قطری حکومت خدا کے عذاب سے ڈرے: سلطان بن سحیم

’قطری حکومت کا شہریوں کو فریضہ حج سے روکنا ’گھٹیا‘ حرکت ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قطری حکمراں خاندان کے سرکردہ رہ نما الشیخ سلطان بن سحیم آل ثانی نے شہریوں کو فریضہ حج کی ادائی سے روکنے کے حکومتی اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہریوں کو فریضہ حج کی ادائی سے روکنا قطری حکومت کی ’گھٹیا اور شرمناک‘ حرکت ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پر پوسٹ کی گئی ٹویٹس میں الشیخ سلطان بن سحیم نے کہا کہ سعودی عرب ہر سال دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں اور قطر کے ہزاروں عازمین حج کی میزبانی کرتا اور انہیں ہرطرح کی سہولیات مہیا کرتا ہے مگر ہماری حکومت اپنے ہی شہریوں کو فریضہ حج کی ادائی سے روکنے کی گھٹیا حرکتوں کی مرتکب ہے۔ ہمیں سعودی عرب کی حج سہولیات کی مساعی کا خیر مقدم کرنا کرتے ہوئے الریاض کا شکر گذار ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر کس قدر حیران کن ہے کہ قطری حکومت اپنے شہریوں کو فریضہ حج کی ادائی سے روکنے کی کوشش کررہی ہے۔ حکومت کا یہ اقدام گھٹیا حرکت ہے اور اس پر اس کا تاریخی محاسبہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے قطرکے حکمرانوں کو خبردار کیا کہ وہ خدا کے عذاب سے ڈریں۔ انہیں شہریوں کو حج اور عمرہ کی ادائی سے روکنے پر اللہ کے ہاں بھی سخت پکڑ ہوگی۔ دنیا میں بھی ان کا نام ظالم حکمرانوں میں لکھا جائے گا اور ہمیشہ ان کا شمار تاریخ کے سیاہ باب میں ہوگا۔ تاریخ ایسی حکومتوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ انہیں جلد اپنے جرائم کا حساب دینا ہوگا۔

خیال رہے کہ الشیخ سلطان بن سحیم قطر کے حکمران خاندان کے رہ نما ہیں مگر وہ موجودہ حکومت سے سخت ناراض ہیں اور حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید اور سعودی عرب کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں