چند گھنٹوں کی خاموشی کے بعد اسرائیل کی غزہ پر گولہ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ پٹی میں چند گھنٹوں کی خاموشی کے بعد اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے مشرق میں سرحد کے نزدیک حماس تنظیم کے ایک ٹھکانے پر چار گولے داغ دیے۔ قابض اسرائیلی فوج اور فلسطینی سکیورٹی ذریعے کے مطابق اس گولہ باری کے نتیجے میں صرف مادی نقصان ہوا۔

واضح رہے کہ ہفتے کی صبح فلسطینی گروپوں اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی کے نئے سمجھوتے کے بعد کئی گھنٹوں تک حالات پرسکون رہے تھے۔ اس سے قبل غزہ پٹی کی سرحد کے نزدیک فائرنگ سے ایک اسرائیلی فوجی کے ہلاک ہونے کے بعد اسرائیلی فوج نے فضائی حملے کیے تھے۔

اسرائیلی فوج نے ہفتے کی شب جاری ایک بیان میں بتایا کہ "اس کے ٹینک نے حماس کے ایک عسکری ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی چند مشتبہ افراد کی غزہ پٹی کے شمال سے اسرائیل میں دراندازی اور پھر واپس غزہ پٹی لوٹ جانے کے جواب میں کی گئی"۔

جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب مصر اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نکولئی ملادینوف کی وساطت سے فائر بندی کو ممکن بنا لیا گیا تھا۔

ادھر حماس تنظیم کے ترجمان فوزی برہوم کا کہنا تھا کہ مصر اور اقوام متحدہ کی کوششوں کا نتیجہ قابض اسرائیل اور فلسطینی گروپوں کے درمیان پہلی جیسی پرسکون حالت تک پہنچنے کی صورت میں سامنے آیا۔

اسرائیلی فوج اور وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے جنگ بندی تک پہنچنے کی تصدیق سے انکار کر دیا۔

جمعے کے روز اسرائیلی گولہ باری اور فضائی حملوں میں چار فلسطینیوں کو شہید کر دیا گیا جن میں تین کا تعلق حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز سے تھا۔

اسرائیل کے مطابق غزہ سے اس کی اراضی پر میزائل داغے گئے تھے۔ تاہم کسی فلسطینی گروپ کی جانب سے ان حملوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں ہوا۔

اسرائیلی فوج کے ایک اعلان کے مطابق اس نے حماس تنظیم کے 60 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جن میں ہتھیاروں کی تیاری کے مقامات، ڈرون طیاروں کا گودام اور عسکری آپریشن روم شامل ہے۔

فلسطینیوں کی جانب سے رواں برس مارچ سے سرحد کے نزدیک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے جس میں اب تک 149 فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں