سعودیہ اور مصر نے’صدی کی ڈیل‘ کا منصوبہ ناکام بنا دیا:فلسطینی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مصرمیں تعینات فلسطینی سفیر دیاب اللوح نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے فلسطین ۔ اسرائیل تنازع کے حل کے حوالے سے تجویز کردہ امن منصوبہ ’صدی کی ڈیل‘ سعودی عرب اور مصر کی کوششوں سے ناکام ہوگیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فلسطینی سفیر نے کہا کہ حالیہ ایام میں امریکا کی جانب سے ’صدی کی ڈیل‘ کے بارے میں کوئی بات نہ تو فلسطینی حکام سے کی گئی ہے اور نہ ہی کسی عرب ملک سے اس پر بات کی گئی ہے۔ تاہم امریکا اور اسرائیل کی طرف سے بعض اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدی کی ڈیل میں القدس کو مکمل طورپر اسرائیل کے حوالے کرنا اور آزاد فلسطینی ریاست کےقیام کی راہ روکنا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے فلسطینی سفیر دیاب اللوح نے مزید کہا کہ ’صدی کی ڈیل‘ کے امریکی امن منصوبے کو ہم بعض اقدامات کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ امریکا نے غیرمنقسم بیت المقدس کو اسرائیل کا ابدی دارالحکومت تسلیم کرکے اپنا سفارت خانہ بھی تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دیا ہے۔

واشنگٹن میں تنظیم ازادی فلسطین [پی ایل او]کے مراکز بند کردیے گئے ہیں۔ امریکا کی طرف سے فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے قائم اقوام متحدہ کی ’ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی‘اونروا‘ کی مالی امداد بھی کم کردی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی کو ناممکن بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ یہ سب کچھ ’صدی کی ڈیل‘ کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر سعودی عرب، مصر اور اردن سمیت کئی دوسرے ممالک کی مساعی سے امریکا صدی کی ڈیل اسکیم کا اعلان نہیں کرسکا ہے۔

فلسطینی سفیر کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات سے سنہ 1967ء سے پہلے والی پوزیشن پر اسرائیل کی واپسی اور دو ریاستی حل کی نفی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس فلسطینی علاقوں پر یہودی بستیوں کی تعمیر کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں اسرائیلی کنیسٹ نے اسرائیل کو یہودیوں کا قومی وطن قرار دے کر 1 کروڑ 80 لاکھ فلسطینیوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔

فلسطینی سفیر نے مزید کہا کہ صدی کی ڈیل کے حوالے سے جو باتیں منظرعام پرآئی ہیں انہیں کسی عرب ملک نے قبول نہیں کیا ہے۔ سنا ہے کہ صدی کی ڈیل میں مصر کے جزیرہ نما سیناء کے کچھ حصے اور غزہ کی پٹی پر مشتمل ایک لولی لنگڑی فلسطینی ریاست کےقیام کی تجویز ہے مگر فلسطینی اتھارٹی اور مصر دونوں نے ایسی ریاست کے تصور کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ مصر نے کہا ہے کہ جزیرہ نما سیناء صرف مصری قوم کے لیے جب کہ فلسطینی اتھارٹی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ غزہ کے بغیر یا صرف غزہ کو فلسطینی ریاست قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔

مصری صدر ایک سے زاید مواقع پر قضیہ فلسطین کے حوالے سے اپنا اصولی موقف واضح کرچکے ہیں۔ مصر کا اصولی موقف وہی ہے جو دوسرے عرب ممالک کا ہے۔ وہ یہ کہ سنہ 2002ء کے عرب امن فارمولے کے مطابق اسرائیل سنہ 1967ء کی جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جائے اور مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی مملکت کا دارالحکومت تسلیم کرے۔

ایک سوال کے جواب میں فلسطینی سفیر دیاب اللوح نے کہا کہ ’صدی کی ڈیل‘ کو ناکام بنانے میں مصر اور سعودی عرب کا کلیدی کردار ہے، تاہم اس حوالے سے اردن اور دوسرے ملکوں نے بھی کردار ادا کیا ہے۔

سعودی عرب کا فلسطین اور قضیہ فلسطین کے حوالے سےموقف واضح ہے۔ اس کا اظہار اپریل میں سعودی عرب کے شہر الظہران میں ہونے والی عرب سربراہ کانفرنس کے انعقاد سے ہوتا ہے جس میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ’القدس سربراہ‘ کانفرنس کا عنوان دے کر یہ پیغام دیا تھا کہ فلسطین سعودی عرب کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ الظہران سربراہ کانفرنس میں واضح کیاگیا ہےکہ مشرق وسطیٰ میں دیر پا قیم امن کے لیے سنہ 2002ء میں جاری کردہ عرب امن فارمولہ بہترین حل ہے اور عرب ممالک اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

فلسطینی سفیر نے فلسطینی دھڑوں کے درمیان جاری مصالحتی کوششوں اور اسرائیلی کنیسٹ میں منظور ہونے والے یہودی قومیت کے متنازع قانون پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے یہودیت قومیت کا قانون منظور کرکے فلسطین میں بسنے والے ایک کرروڑ 80 لاکھ فلسطینیوں کی زندگیوں کو خطرات سے دوچار کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصری حکومت فلسطینی دھڑوں میں اتحاد اور مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے میں مدد کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں