سعودی شہریوں کو انڈونیشیا کے ایک ہوٹل میں قیام سے خبردار کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انڈونیشیا میں سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر اسامہ الشعیبی نے اپنے ہم وطن سعودی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ جکارتہ شہر میں واقع ہوٹل"THE ACACIA" میں قیام سے گریز کریں۔ ٹوئیٹر پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر جاری تنبیہ میں سعودی سفیر نے بتایا کہ "ہوٹل کے کمروں سے براہ راست اور لاکرز سے بالواسطہ چوریوں کی کثیر اطلاعات موصول ہوئی ہیں"۔

ڈاکٹر الشعیبی کے مطابق سعودی شہری انڈونیشیا میں سیاحت کو پسند کرتے ہیں۔ نوجوان اور خاندانوں سمیت ہر عمر کے افراد یہاں آتے ہیں۔ رواں برس انڈونیشا کے لیے سعودی سیاحوں کی تعداد کا اندازہ 1.66 لاکھ ہے جب کہ گزشتہ برسوں کے دوران یہ تعداد 2.4 لاکھ کے قریب ہوتی تھی۔ ماضی میں سعودی سیاح جکارتہ اور یہاں کے پہاڑی علاقے آیا کرتا تھا جب کہ اب وہ بالی جیسے دیگر مقامات کا رخ کر رہا ہے"۔

انہوں نے واضح کیا کہ سعودی سیاح اب رشوت، بلیک میلنگ اور چوریوں کے حوالے سے چوکنّا ہو چکا ہے اور انڈونیشیا میں سعودی سفارت خانہ سعودی سیاحوں کے تمام امور کا جائزہ لے رہا ہے ۔ سفارت خانے میں چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر سعودی شہریوں کی شکایات وصول کی جا رہی ہیں۔

مذکورہ ہوٹل کے حوالے سے سعودی سفیر کا کہنا ہے کہ وہ ان شکایات کے درست ہونے کی خود تحقیق کر رہے ہیں۔ "اس ہوٹل کے بارے میں چوری سے متعلق کافی شکایات آ چکی ہیں جو کہ ایک ناقابل قبول امر ہے۔ اس حوالے سے متنبہ کرنا ناگزیر تھا تا کہ سیاح یہاں کا رخ نہ کریں اور ہوٹل انتظامیہ بھی یہ جان لے کہ اس طرح وہ اپنے صارفین کو کھو دیں گے۔ اب تک مجھے 5 سے زیادہ شکایات مل چکی ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ بات درست ہے اور چوروں اور ہوٹل انتظامیہ کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں