سعودی عرب اور امارات سے تعلقات ٹھیک کرنے کی کوشش کررہے ہیں: روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک خلیجی ریاستوں بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے اور تعلقات کو معمول پرلانے کی کوشش کررہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی سفارت کاروں کے ایک اجلاس سے خطاب میں صدر روحانی نے ملک کو درپیش حالات کے تناظر میں علاقائی قوتوں سے تعلقات بہتر بنانے کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔

ایرانی صدر کی طرف سے تین خلیجی ملکوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی بات ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب امریکا کی جانب سے ایران پر نئی اقتصادی پابندیوں کے لیے مقرر کردہ چار اگست کی تاریخ قریب آ رہی ہے۔

صدر روحانی نے امریکی صدر کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امریکا کی ایران پر پابندیوں کا مقصد ایرانی نظام کا سقوط اور ایران کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہے۔

ایرانی صدر نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کہ کہ "جس کو سیاست کی ذرا بھی سمجھ بوجھ ہو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم ایرانی تیل کی برآمد کو روک دیں گے۔ ہمارے پاس بہت سے راستے ہیں جن میں سے ایک آبنائے ہرمز بھی ہے"۔

روحانی نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ عسکری مقابلے کے حوالے سے کہا کہ یہ "جنگوں کی ماں" ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ وقت میں واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کرنا ایران کی جانب سے "ہتھیار ڈالنا" شمار ہو گا۔

امریکی پابندیوں کا پہلا مرحلہ چار اگست سے شروع ہو گا جب واشنگٹن گاڑیوں، سونے اور دیگر مرکزی سیکٹروں پر پابندیاں عائد کرے گا۔ اس کے بعد چھ نومبر کو پابندیوں کا زیادہ سخت مرحلہ آئے گا اور ایرانیوں کے تیل اور گیس کی برآمدات کو روک دیا جائے گا۔ ساتھ ہی ان دونوں سیکٹروں میں ایران کے ساتھ معاملات کرنے والی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

روحانی کے مطابق ان کی حکومت اس وقت پڑوسی خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف گزشتہ ہفتے خبردار کر چکے ہیں کہ جوہری معاہدہ ناکام ہو جانے کی صورت میں ایرانی نظام کے سقوط اور ملک کی تقسیم کا خطرہ لاحق ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں