سعودی عرب : ماں کے خلاف مقدمہ دائر کرنے والے یمنی نوجوان کے ساتھ کیا ہوا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے شہر جدہ میں عدالت نے یمنی شہریت کے حامل نوجوان کے اپنی ماں کے خلاف دائر مالی شراکت داری کے مقدمے کو 40 ماہ بعد خارج کر دیا ہے۔ مذکورہ نوجوان کا مطالبہ تھا کہ اس کی ماں باہمی کاروباری سرگرمیوں کے مقابل اُسے 6.5 لاکھ ریال کی رقم واپس کرے۔

جدہ کے چیمبر آف کامرس میں وکلاء کے پینل کے رکن اور قانونی مشیر ایڈوکیٹ بندر العمودی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ یہ مقدمہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے سعودی عرب کی عدالتوں میں پیش کیے جانے والے نادر اور انوکھے ترین مقدمات میں سے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 3 برس کے بعد مقدمے کو خارج کر دیا گیا۔ یمنی نوجوان کی ماں فیصلہ سننے کے بعد روتی ہوئی عدالت سے باہر آئی کیوں کہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کے اور اس کے بیٹے کے درمیان قانونی جنگ کی نوبت یہاں تک پہنچے۔

یمنی نوجوان اور اس کی ماں کے درمیان تنازع ایک دکان کی بنیاد پر پیدا ہوا۔ نوجوان کا دعوی تھا کہ اس کی ماں نے متفقہ مالی معاوضے کے مقابل بظاہر یہ دکان اس کے حوالے کر دی تھی تا کہ وہ اس میں اپنا کاروبار کر سکے۔ تاہم اس کی ماں نے کاروباری عمل اور ملازمین کی تںخواہوں کے معاملات میں مداخلت شروع کر دی۔ یہاں تک کہ کاروبار کی آمدنی بھی وہ خود رکھ لیتی اور بیٹے کو کچھ نہیں دیتی تھی۔ اس کے نتیجے میں یمنی نوجوان نے ماں کے خلاف مقدمہ دائر کیا کہ وہ اُسے 6.5 لاکھ ریال کی رقم لوٹائے۔

نوجوان کا مزید کہنا تھا کہ اس کی ماں دکان سے حاصل ہونے والی رقم کو اپنے بیوٹی سیلونز منتقل کر دیا کرتی تھی اور ماں نے اپنے کیے ہوئے وعدوں کی پاسداری نہیں کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں