قطر کی’عبوری اقدامات‘ کی درخواست مسترد ہونے پر امارات کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مُتحدہ عرب امارات نے سوموار کے روز عالمی عدالت انصاف کی طرف سے قطر کی جانب سے نسل پرستی اور امتیازی سلوک کے خلاف عبوری اقدامات کے لیے دی گئی درخواست مسترد ہونے کا خیر مقدم کیا ہے۔

’العربیہ ڈٹ نیٹ‘ کے مطابق سوموار کےروز بین الاقوامی فوج داری عدالت نے قطر کی طرف سے دی گئی وہ درخواست مسترد کردی تھی جس میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ دوسرے عرب ممالک کی طرف سے دوحہ کے خلاف نسلی امتیاز برتنے کا نوٹس لے اور اس سلسلے میں عبوری اقدامات کے احکامات جاری کیے جائیں۔

قطر کی عالمی عدالت میں درخواست مسترد ہونے پر خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات نے اطمینان کا اظہارکیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر کی طرف سے جن اقدامات کے بارے میں عالمی عدالت سے اپیل کی گئی تھی ان میں سے بیشتر پہلے ہی امارات کرچکا ہے۔ اس لیے دوحہ کے مطالبات کا کوئی جواز نہیں اور وہ بے بنیاد دعوؤں کے ساتھ عالمی عدالت انصاف میں سرگرم عمل ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر کو دہشت گردوں کی پشت پناہی کی پالیسی ترک کرکے خطے کو عدم استحکام سے دو چار کرنے والی قوتوں سے دور رہنا ہوگا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قطری حکومت کی طرف سے عالمی عدالت انصاف میں جن مطالبات کے لیے درخواست دی گئی تھی ان کا قطری عوام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ یہ مطالبات قطری حکومت کے ہیں۔ امارات کی طرف سے قطری باشندوں پر کسی قسم کی قدغن نہیں۔ اس وقت بھی متحدہ عرب امارات کے تمام شہروں میں ہزاروں قطری موجود ہیں اور ان کا روزانہ آنا جانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں