.

عراقی وزیراعظم کا حالیہ مظاہروں میں ’’درانداز‘‘100 افراد کی گرفتاری کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران میں درانداز ہونے والے ایک سو سے زیادہ افراد کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

انھوں نے تحقیقات کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں میں درانداز ہونے والے ان افراد کا تعلق مختلف تنظیموں اور گروپوں سے ہے۔ تاہم انھوں نے سکیورٹی وجوہ کی بنا پر ان گروپوں اور تنظیموں کے بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

حیدر العبادی نے بدھ کو ایک نئی کونسل کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ کونسل مختلف گورنریوں میں بدعنوان حکام کے خلاف تحقیقات کرے گی ۔انھوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت بے روز گار افراد کو فوری طور پر کام پر لگانے کے لیے طریق کار کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

عراق کے مختلف شہروں میں گذشتہ دو ہفتے سے جاری احتجاجی مظاہروں میں چودہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔مقامی حکام اور میڈیکل ذرائع کے مطابق ان میں بیشتر افراد نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک شخص مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پھینکی گئی اشک آور گیس سے دم گھٹنے سے ہلاک ہوا تھا۔

جنوبی شہر بصرہ میں مظاہرے میں شریک ایک شخص سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوا تھا۔تاہم مقامی حکام نے مظاہرین پر سرکاری عمارتوں پر دھاوے بولنے اور بلووں کا الزام عاید کیا تھا جنھیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے سیدھی فائرنگ کردی تھی۔

عراق کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کے سر براہ فضل الغراوی نے بتایا ہے کہ بنیادی خدمات اور روزگار کی عدم فراہمی کے خلاف اس احتجاجی تحریک میں 275 مظاہرین اور 470 سکیورٹی اہلکار ز خمی ہوئے ہیں۔ 828 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔البتہ ان میں سے بیشتر کو رہا کیا جاچکا ہے۔

فضل الغراوی کا کہنا ہے کہ انھوں نے وزیراعظم حیدر العبادی سے تشدد سے بچنے اور مظاہرین کی پکڑ دھکڑ نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور مظاہرین سے بھی کہا تھا کہ وہ پُرامن انداز میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کریں اور بلووں اور تشدد سے گریز کریں۔