سعودی عرب کا باب المندب سے تیل بردار جہاز روکنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب نےکہا ہے کہ جب تک بحری ٹریفک کی سلامتی کو لاحق خطرات کم نہیں ہو جاتے تب تک یمن کی باب المندب بندرگاہ سے خام تیل لے لدے بحری جہازوں کی آمد ورفت روک دی جائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے وزیر برائے توانائی، صنعت اور قدرتی وسائل خالد بن عبدالعزیز الفالح نے کہا کہ یمن کے حوثی دہشت گردوں نے باب المندب کے قریب سعودی عرب کے دو تیل بردار بحری جہازوں پر حملے کی کوشش مگر عرب اتحادی فوج نے بروقت کارروائی کرکے دہشت گردوں کی کوشش ناکام بنا دی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے دونوں بحری جہازوں پر بیس لاکھ بیرل تیل لادا گیا تھا۔ ان دونوں بحری جہازوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ باب المندب بندرگاہ کےقریب سے گذر رہے تھے۔

دہشت گردوں کے حملے میں ایک بحری جہازکو معمول نقصان پہنچا ہے تاہم کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی تیل ضائع ہوا ہے۔

سعودی وزیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک باب المندب سے تیل بردار تمام جہازوں کی آمد ورفت اس وقت تک بند کردے گا جب تک حوثی دہشت گردوں سے عالمی جہاز رانی کو لاحق خطراتب ختم نہیں ہوجاتے، بحر احمر اور باب المندب میں آبی ٹریفک کو تحفظ نہیں مل جاتا اس وقت کوئی تیل بردار جہاز باب المندب بندرگاہ سے نہیں گذرے گا۔

ادھر سعودی عرب کی تیل کی سب سے بڑی کمپنی ’ارامکو‘ نے وزیر توانائی کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ باب المندب سے تیل بردار جہازوں کے گذرنے پر پابندی کا فیصلہ جہازوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے سے بچانے، تیل کا ضا ئع ہونے سے روکنے اور عملے کے تحفظ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے باب المندب میں امن وامان کے حالات سازگار ہونے تک تیل بردار جہاز روانہ کرنے روک دیے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز باب المندب میں سعودی عرب کے دو تیل بردار جہازوں پر حوثی دہشت گردوں نے حملہ کرکے انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی مگر عرب اتحادی فوج نے بروقت کارروائی کرکے دہشت گردی کی خطرناک سازش ناکام بنا دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں