لیلی کے در و دیوار جن کو قیس کے لَبوں نے چُوما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تاریخ نے سعودی عرب کے شہر "لیلی" کی کہانیوں اور قصّوں کو امر کر دیا ہے۔ دنیا بھر میں محبت کی لازوال داستان کا حامل یہ شہر سعودی دارالحکومت ریاض سے 300 کلو میٹر جنوب میں "الافلاج" ضلعے میں واقعے ہے۔

مذکورہ شہر کا نام عرب تاریخ کی ایک مشہور پریم داستان میں "قیس" کی محبوبہ "لیلی" کے نام سے منسوب ہے۔ مؤرخین کے مطابق "قيس اورليلى" کا واقعہ پہلی صدی ہجری میں یعنی 24 ھ سے 68 ھ (645ء سے 688ء) کے درمیان پیش آیا۔ اس وقت اموی دور میں مروان بن الحکم اور عبدالملک بن مروان کی حکومت کا زمانہ تھا۔

عرب تاریخ میں قیس نام کے دو عاشق ملتے ہیں۔ ان میں پہلا "قیس بن الملوح" تو لیلی کا عاشق تھا جس کا ان سطور میں ذکر ہو رہا ہے جب کہ دوسرا "قیس بن ذریح" کسی اور خاتون "لبنی" کی محبت میں گرفتار تھا۔

قیس بن الملوح کو جن خطابات سے نوازا گیا ان میں "مجنوں" سب سے زیادہ مشہور ہے۔ درحقیقت وہ مجنوں یعنی پاگل نہیں تھا بلکہ اپنی محبوبہ لیلی العامریہ سے دیوانگی کی حد تک محبت کے سبب اسے یہ نام دے دیا گیا۔ قیس اپنی محبوبہ لیلی کے ساتھ ہی پروان چڑھا اور اسی سے محبّت کی تاہم لیلی کے گھر والوں نے قیس سے اس کی شادی کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے نتیجے میں قیس نجد، شام اور حجاز میں دیوانوں کی صورت لیے پھرتے ہوئے لیلی سے متعلق اشعار کہتا تھا۔

لیلی کے گھر والوں نے اپنی بیٹی کی شادی ایک رشتے دار مرد سے کر دی جو اسے لے کر طائف چلا گیا۔ تاہم قیس کے چہرے پر لیلی کی جدائی کے غم نے ڈیرہ ڈال لیا اور وہ خشکی میں مارا مارا پھرنے لگا۔

کہا جاتا ہے کہ قیس کا باپ اپنے بیٹے کو حج پر لے کر گیا تا کہ اللہ تعالی سے دعا کرے کہ اس کا بیٹا لیلی کی محبت کے مرض سے باہر آئے۔ بیت اللہ پہنچ کر قیس کے باپ نے بیٹے سے کہا کہ "جاؤ اور بیت اللہ کا غلاف تھام کر دعا کرو کہ اللہ تم کو لیلی کی محبت سے نجات عطا فرمائے"۔ قیس گیا اور بیت اللہ کا غلاف تھام کر دعا کرنے لگا کہ "اے اللہ تُو میرے دل میں لیلی کی محبت میں اضافہ فرما دے اور میں اس کا ذکر کبھی نہ بُھولوں"۔

سعودی عرب کے شہر لیلی کے قریب وادی الغیل میں واقع "جبلِ توباد" قیس بن الملوح کے سبب تاریخ میں امر ہو گیا۔ اس پہاڑ میں ایک غار ہے جس کا نام "غارِ قیس" ہے۔ یہ عاشقوں کی ملاقات کا مقام تھا۔ نئے دور کے پریمیوں نے اس کی دیواروں پر اپنے نام لکھ رکھے ہیں۔

عرب کے کئی مشہور شعراء نے اس "جبلِ توباد" کا ذکر اپنی شاعری میں کیا ہے۔

ریاض میں بھارتی کمیونٹی کے لوگ بکثرت اس پہاڑ کا دورہ کرتے ہیں اور مشہور غار کی دیوار پر اپنے نام تحریر کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک بھارتی ٹی وی پر نشر رپوٹ میں لیلی مجنوں کی داستان کے ساتھ جبلِ توباد کی تصاویر دکھائی گئی تھیں۔

عربی ادب پر توجہ مبذول کرنے والی متعدد شخصیات نے مطالبہ کیا ہے کہ اس مقام کو پھر سے درست کیا جائے بالخصوص جب کہ مختلف رنگوں کی تحریروں کے سبب اس کی صورت مسخ ہو چکی ہے۔ ان شخصیات کے مطابق اس طرح یہ مقام تاریخ میں امر ہو جانے والی محبت کی داستان کی یاد واپس لا سکے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں