سعودی نوجوان رضا کار حجاج کے استقبال کی تیاری کیسے کررہےہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

حج کا موسم آتے ہی جہاں سعودی عرب کی حکومت اور تمام ریاستی مشینری حجاج کرام کے استقبال کے لیے متحرک ہوجاتی ہے وہیں حُجاج کی خدمت کے جذبے سے سرشار نوجوان رضار کار بھی میدان عمل میں کود پڑتے ہیں۔

اس بار چونکہ حج کا سیزن موسم گرما کے عروج کے ساتھ آ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان رضا کار بھی اس موسم کی مناسبت کے مطابق عازمین حج اور ضیوف الرحمان کے استقبال کے لیے تیاریاں کررہے ہیں۔

رواں موسم حج کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ملک بھر میں تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات ہیں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد کے پاس حجاج کرام کی خدمت کے لیے وقت بھی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عازمین حج کے استقبال کے لیے بڑی تعداد میں نوجوان میدان میں اتر رہے ہیں۔

حُجاج کرام کی خدمت کے لیے رضا کارانہ اور بغیر کسی مادی اور دنیا صلے کی خواہش کے صرف فی سبیل اللہ سروسزمہیا کرنے والوں میں نہ صرف سعودی نوجوان ہیں بلکہ مُملکت میں مقیم غیرملکی مسلمان نوجوان بھی عازمین حج کی معاونت اور مدد میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔

چونکہ فریضہ حج کی ادائی کے لیے دُنیا بھر سے آنے والے فرزندان توحید اجنبی ہونے کی وجہ سے قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرتےہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں درپیش ممکنہ مشکلات کے حل میں مدد کرنے والےنوجوان بھی مختلف شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں۔ وہ اپنی ذمہ داریاں اور رضاکارانہ ڈیوٹی کی انجام دہی کے مقامات کا بھی تعین کرتے ہیں۔ بعض مختلف کمپنیوں یا اداروں کی طرف سے خدمات مہیا کرتے ہیں۔ یوں وہ حجاج کی قیام گاہوں سے مشاعر مقدسہ تک ہرجگہ کسی نا کسی شکل میں سرکاری اداروں کے اہلکاروں کے شانہ بہ شانہ حجاج کی خدمت انجام دے رہے ہوتےہیں۔

حجاج کی خدمت کے جذبہ ایمانی سے سرشار نوجوانوں ولید حمود اور معتوق سراج نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے حج کے موقع پر حجاج کرام کے لیے رضاکارانہ خدمات کو’کار عظیم‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رضا کار نوجوان اپنی خدمات کے صلے میں کُچھ نہیں لیتے۔ یہ صرف ایمانی اور ایک معنوی جذبہ ہوتا ہے جو نوجوانوں کو حجاج کی خدمت پرمامور رکھتا ہے۔

دونوں رضا کاروں کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو موسم کے مطابق حجاج کرام کے لیے رضاکارانہ امور انجام دینے چاہئیں۔ جو کارکن پہلے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اس میدان میں آنےوالے اپنے نئے بھائیوں کی مدد کریں۔ دنیا بھر سے مختلف ثقافتوں، علاقوں اور زبانوں کو سمجھنے والے لوگ حج پرآتے ہیں۔ انہیں ڈیل کرنے کے لیے بھی ان ثقافتوں اور زبانوں سے واقف افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔

رضا کارعلاء الدین مندیلی ، عبدالرحمان الخوتانی اور نایف سمسری نے کہا کہ انہوں نے حجاج کے لیے اپنی رضاکارانہ خدمات ایک حج ٹورآپریٹر کو پیش کی ہیں۔ وقت کا اس سے بہتر اور کوئی مصرف نہیں ہوسکتا۔ تاہم ان کاکہنا تھا کہ حجاج کی خدمت کوئی آسان کام نہیں۔ یہ تھکا دینے والا، مسلسل محنت طلب اور تجربے کا متقاضی ہے۔ حجاج کرام کی طرف سے قدم قدم پر ہمیں سوالوں کے جواب دینا ہوتے ہیں۔

جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے عازمین حج کی رہ نمائی کے لیے قائم مرکز 78 کے چیئرمین طلال قصاص نے کہا کہ ہمیں حج کے موقع پر حجاج کرام کی خدمت کے دوران بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حج سیزن میں کام ایک اسکول سے کم نہیں ہوتا۔ ہمیں اپنے نفس پر اعتماد، حجاج کی کیفیات، ان کےمزاج، مختلف سماجوں اور ان سے ڈیل کرنے، دنیا کے دیگر زبانوں کو سننے کا موقع ملتا ہے۔ اس طرح رضاکاروں کی مہارتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں