اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی ناکا بندی توڑنے کی کوشش کرنے والی ناروے کی کشتی پکڑ لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی بحریہ نے اتوار کو غزہ کی پٹی کی سمندری ناکا بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے یورپی امدادی کارکنان کی ایک کشتی پکڑ لی ہے۔ کشتی پر ناروے کا پرچم لہرا تھا۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ (ان امدادی کارکنان کی) سرگرمی کسی غیر معمولی واقعے کے بغیر ہی ختم ہوگئی ہے او ر اس وقت اس کشتی کو اسرائیلی بندرگاہ اشدود منتقل کیا جارہا ہے‘‘۔

العودہ نامی اس کشتی سے وابستہ امدادی گروپ نے کہا ہے کہ اس پر بائیس افراد سوار تھے اور ادویہ اور طبی سامان لدا ہوا تھا۔فریڈم فلوٹیلا اتحاد کے ایک بیان کے مطابق اسی گروپ کی ایک دوسری کشتی کی آیندہ چند روز میں اسی علاقے میں آمد متوقع ہے۔اس کشتی کا نام آزاد ی ہے اور اس پر سویڈش پرچم لہرا رہا ہوگا۔

سکنڈ ے نیویا کے ممالک سے مئی کے وسط میں چار کشتیاں غزہ میں محصور فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لے کر روانہ ہوئی تھیں۔انھوں نے غزہ تک پہنچنے میں اٹھائیس مختلف بندرگاہوں پر قیام کیا ہے۔اس مہم میں شامل باقی دوکشتیاں پلرمو کی بندرگاہ پرقیام کے بعد اپنی منزل کی جانب روانہ ہوچکی ہیں۔

العودہ کے پکڑے جانے کے بعد فلوٹیلا اتحاد نے ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں یہ کہا ہے کہ ’’اسرائیلی بحریہ ہمیں انتباہ جاری کررہی ہے اور وہ یہ دعویٰ کررہی ہے کہ ہم بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔اس نے امدادی کشتیوں کو روکنے کے لیے کسی بھی ضروری اقدام کی دھمکی دی ہے‘‘۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ درحقیقت واحد ضروری اقدام یہ ہوسکتا ہے کہ غزہ کی ناکا بندی ختم کردی جائے اور تمام فلسطینیوں کو آزادانہ نقل وحرکت کی آزادی دی جائے‘‘۔

اسرائیلی بحریہ نہ صرف غزہ کی ناکا بندی توڑنے کی کوشش کے لیے آنے والی مغربی ممالک کی کشتیاں کو پکڑلیتی ہے بلکہ وہ غزہ کی بندر گاہ سے یورپ کی طرف جانے والی کشتیوں پر بھی دھاوا بول دیتی ہے۔اس نے چند ہفتے قبل غزہ سے یورپ جانے والی ایک کشتی کو روانہ ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی پکڑ لیا تھا۔

فلسطینیوں نے مئی میں بھی ایک کشتی کے ذریعے اسرائیل کی بحری ناکا بندی توڑنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کو بھی غزہ سے چند کلومیٹر دور پکڑ لیا گیا تھا۔اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی کشتیوں کو چھے ناٹیکل میل سے باہر نہیں جانے دیتی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 2008ء سے غزہ کی پٹی کی بری ، بحری اور فضائی ناکا بندی کررکھی ہے ۔اقوام متحدہ کے عہدے دار اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں متعدد مرتبہ اسرائیل سے فلسطینی علاقے کا بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال کے پیش نظر محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کرچکی ہیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں