عراق : الیکشن کمیشن کے پانچ علاقائی عہدے دار بدعنوانیوں کے الزامات میں برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے 12 مئی کو منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں کرپشن، دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کے الزامات میں آزاد اعلیٰ الیکشن کمیشن کے پانچ علاقائی عہدے داروں کو برطرف کردیا ہے۔

عراقی وزیراعظم نے یہ اقدام ایسے وقت میں کیا ہے جب پارلیمانی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی ہاتھوں سے گنتی جاری ہے۔ یہ عمل مکمل ہونے کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ حتمی انتخابی نتائج کی توثیق اور نئی حکومت کی تشکیل میں تیزی آئے گی۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان جج لیث جابر حمزہ کے مطابق عراق کے مختلف علاقوں میں انتخابات کے دوران میں ہونے والی دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کردہ خصوصی کمیٹی نے ہفتے کے روز صوبہ کرکوک ، الانبار اور صلاح الدین میں تعینات مقامی الیکشن سربراہوں کو برطرف کرنے کی سفارش کی ہے اور وزیراعظم عبادی نے اس کی منظوری دے دی ہے۔

ترکی اور اردن میں الیکشن کمیشن کی جانب سے قائم کردہ دفاتر کے انچارج صاحبان کو بھی کمیٹی کی سفارش پر ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔یہ دفاتر ان ممالک میں مقیم عراقی تارکینِ وطن کی انتخابی عمل کی معاونت کے لیے قائم کیے گئے تھے۔

ترجمان نے کہا کہ ان عہدے داروں کو ہٹانے کا فیصلہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد کیا گیا ہے۔یہ پانچوں عہدے دار انتخابی خلاف ورزیوں ، انتخابی نتائج میں ردو بدل اور مالی بدعنوانیوں کے مرتکب ہوئے تھے۔

ان کی برطرفی کےا علان سے ایک روز قبل ہی عراق کے سرکردہ شیعہ رہ نما آیت اللہ علی السیستانی نے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ ملک سے بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

واضح رہے کہ عراق کے شمالی شہر کرکوک میں عام انخاربات کے لیے پولنگ کے دوران میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کی شکایات سامنے آئی تھیں اور دوسرے صوبوں سے بھی انتخابی بے ضابطگیوں کی شکایات موصول ہوئی تھیں۔

حزبِ اختلاف کے سیاست دانوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ عام انتخابات میں پہلی مرتبہ استعمال کی جانے والی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا گنتی کا سسٹم محفوظ نہیں تھا اور اس میں چھیڑ چھاڑ کرکے انتخابی نتائج میں ردوبدل کیا جاسکتا تھا۔

ان دعووں کے بعد عراق کی سبکدوش ہونے والی پارلیمان نے ملک بھر میں عام انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی ہاتھوں سے گنتی کا حکم دیا تھا اور اس ضمن میں ایک قانون کی منظوری دی تھی۔اس میں آزاد اعلیٰ الیکشن کمیشن کو ہٹانے اور اس کی جگہ ججوں پر مشتمل انتخابی پینل تشکیل دینے کی بھی سفارش کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں