عراق : 3 ہفتوں کے عوامی احتجاج کے بعد بجلی کے وزیر کی برطرفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے ملک کے بجلی کے وزیر قاسم الفہداوی کو برطرف کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ جنوبی عراق میں عوامی احتجاج بھڑک اٹھنے کے تین ہفتوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ احتجاجی مظاہروں میں ملک میں بجلی کی دیرینہ کمی کی خاص طور پر مذمت کی گئی ۔

دوسری جانب ایک عراقی عہدے دار نے فرانسیسی خبر رساں ایجسنی کو بتایا کہ "وزیراعظم العبادی نے ٹھیکوں، بھرتیوں اور نامکمل منصوبوں کے حوالے سے تحقیقات شروع کرنے کا حکم دیا ہے"۔

عراق کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں عوام نے بجلی کی فراہمی میں شدید کمی کے سبب متعلقہ وزیر الفہداوی کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا۔

عراق کو بجلی کی توانائی کے میدان میں شدید قلت کا سامنا ہے۔ ایسے وقت میں جب کہ درجہ حرارت پچاس ڈگری کے قریب پہنچا ہوا ہے عراقی خاندانوں کو محض چند گھنٹوں کے لیے بجلی میسّر ہے۔

سال 2003ء کے بعد سے آنے والی حکومتوں نے اس سیکٹر کے لیے 40 ارب ڈالر سے زیادہ مختص کیے تاہم اب بھی عراقی شہریوں کا بڑے پیمانے پر انحصار بجلی کے جنریرٹرز پر ہے۔

واضح رہے کہ 2003ء کے بعد سے بجلی کا کوئی بھی وزیر اپنی مدت مکمل نہیں کر سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس منصب پر فائز ہونے والی شخصیت برطرف کر دی جاتی ہے یا مستعفی ہو جاتی ہے اور یا پھر بدعنوانی کا الزام لگنے کے بعد ملک سے فرار ہو جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں