.

عراق: جنوبی صوبوں میں مظاہروں نے دھرنوں کی صورت اختیار کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے جنوبی صوبوں میں ہونے والے مظاہرے اب تیل کی کمپنیوں اور مقامی حکومتوں کے دفاتر کے سامنے کُھلے دَھرنوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ اس پیش رفت کا مقصد احتجاج کرنے والوں کے مطالبات پر عمل درامد کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔

بصرہ میں سیکڑوں افراد نے تیل کی البرجسیہ تنصیب کے نزدیک خیمے لگا کر دھرنا دیا اور زور دیا کہ مطالبات پر عمل درامد ہونے تک مظاہروں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اس کے علاوہ دیگر افراد نے مقامی حکومت کی عمارت کے سامنے دھرنا دیتے ہوئے پانی اور بجلی کی فراہمی پر زور دیا اور بھرتیوں کے کھولے جانے اور بدعنوانی پر قابو پانے کا مطالبہ بھی کیا۔

ادھر المثنی صوبے میں تقریبا دو ہزار افراد نے اپنے مطالبات پر عمل درامد نہ ہونے پر احتجاج کیا۔ وزیراعظم حیدر العبادی نے ان مطالبات کو پورا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

دوسری جانب المثنی میں انسانی حقوق کے دفتر کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ بعض سرکاری اداروں کی جانب سے دھرنے کی آزادی اور پر امن مظاہروں سے متعلق آئینی شقوں کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔