.

سوچی : شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد سازی کی کوششیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے سیاسی حل کے لیے روس کے شہر سُوچی میں ہونے والے آستانہ مذاکرات کا دسواں دور آج دوسرے روز میں داخل ہو گیا۔

بات چیت کے حالیہ دور کا ثمر اُس وقت سامنے آیا جب روس کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ ضامن ممالک کے درمیان ایک تجرباتی منصوبے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ منصوبے میں شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان زیر حراست افراد کی ایک محدود تعداد کا تبادلہ کیا جائے گا۔ اقدام کا مقصد فریقین کے بیچ اعتماد کی فضا قائم کرنا ہے۔

اس سے قبل پیر کے روز سُوچی میں آستانہ مذاکرات کا دسواں دور شروع ہوا۔ بات چیت میں ضامن ممالک کے وفود اور شامی حکومت اور اپوزیشن کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ مذاکرات میں اِدلِب میں سیف زون، انسانی معاملات پر روس کی توجہ میں اضافے اور شامی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں پناہ گزینوں کی واپسی جیسے امور زیر بحث آئیں گے۔

آستانہ بات چیت کے ایجنڈے میں گرفتار افراد اور جبری طور پر لاپتہ لوگوں کا موضوع بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ شام میں جبری روپوشی ایک جنگی ہتھیار بن چکا ہے جس کا گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔

سال 2011ء سے شام میں کم از کم 95 ہزار افراد ابھی تک جبری روپوشی کا شکار ہیں۔