.

امریکی صدر کے قول و فعل میں کھلا تضاد ہے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایرانی قیادت سے غیر مشروط بات چیت پرآمادگی کے بیان پر تہران کی جانب سے رد عمل میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کے قول و فعل میں کھلا تضاد ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق امریکی صدر ایران پر اقتصادی پابندیاں عاید کرنے اور دوسرے ملکوں کو اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنے پر اکسا رہے ہیں۔ دوسری جانب وہ ایرانی قیادت سے غیر مشروط بات چیت اور ملاقات کی خواہش کا بھی اظہار کرتے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی’فارس‘ نے وزارت خارجہ کے ترجمان بہران قاسمی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ پابندیاں اور دباؤ بات چیت کے اصولوں سے متصادم ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی قیادت کے ساتھ ملاقات کی خواہش کو ایرانی قوم کے خلاف پابندیوں کے فیصلوں کے بعد کس طرح پیش کررہے ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ مذاکرات اور انتقامی سیاست ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

خیال رہے کہ دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایرانی قیادت کے ساتھ کسی بھی جگہ اور کسی بھی وقت غیر مشروط طورپر ملنے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں چاہے وہ دشمن ہی کیوں نہ ہو۔

ان کے اس بیان پر ایرانی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے کہا کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ مذاکرات بے معنی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار سنھبالنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی بار ایرانی قیادت سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔