.

شام میں گولان کے سرحد ی علاقے سے ایرانی فورسز کا انخلا، اسرائیل غیر مطمئن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں ایرانی فورسز نے اپنے بھاری ہتھیارو ں کو اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی چوٹیوں کی سرحد سے 85 کلومیٹر تک پیچھے ہٹا لیا ہے لیکن اسرائیل نے اس انخلا کو ناکافی قرار دیا ہے۔

خصوصی ایلچی برائے شام الیگزینڈر لافرنتیف نے بدھ کو گولان کی چوٹیوں کے نزدیک سے ایرانی فورسز کے انخلا کی اطلاع دی ہے ۔روس اسرائیل کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ شامی کنٹرول میں گولان یا اس کے نزدیک صرف شامی فورسز ہی کو تعینات کرنا چاہتا ہے۔تاہم اسرائیل اس بات پر اصرار کررہا ہے کہ ایران اور اس کے زیر اثر تمام فورسز شام سے مکمل طور پر نکل جائیں۔

روس کی خبررساں ایجنسی تاس نے صدر ولادی میر پوتین کے خصوصی ایلچی برائے شام الیگزینڈر لافرنتیف کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’’ایرانیوں کا وہاں سے انخلا ہوگیا ہے اور شیعہ فارمیشنز بھی وہاں نہیں رہی ہیں‘‘۔

ان کا کہنا ہے کہ شام کی مسلح افواج کے ساتھ مشیر کے طور پر کام کرنے والے ایرانی فوجی اہلکار اسرائیلی سرحد کے نزدیک ہوسکتے ہیں لیکن وہاں بھاری آلات اور ہتھیار وں کے یونٹس نہیں ہیں جو ممکنہ طور اسرائیل کے لیے خطرے کا موجب ہوسکتے تھے۔وہ اسرائیل اور شام کے درمیان حد متارکہ جنگ سے 85 کلومیٹر تک پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

اسرائیل کے ایک عہدہ دار نے اس انخلا کو ناکافی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ شام میں موجود ایرانی میزائل اور ڈرونز اسرائیل کے لیے خطرے کا موجب ہیں۔اس لیے اس معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔

گذشتہ ہفتے اسرائیل کے ایک اور عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا تھا کہ روس نے ایرانی فورسز کو گولان کی چوٹیوں میں حد متارکہ جنگ سے کم سے کم ایک سو کلومیٹر دور رکھنے کی پیش کش کی تھی لیکن اسرائیل نے اس پیش کش کو مسترد کردیا تھا۔

روس کی جانب سے پیش کش وزیر خارجہ سرگئی لاروف کی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے اسرائیل میں ملاقات کے دوران میں کی گئی تھی۔اسرائیل کے استرداد پر تل ابیب میں متعیّن روسی سفیر اناتولی وکٹروف نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ان کا ملک ایران کو شام سے انخلا پر مجبور نہیں کرسکتا۔