.

شام کے صوبے اِدلب کے حوالے سے ترکی اور روس کے درمیان مفاہمت کی اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سُوچی میں آستانہ مذاکرات کے دسویں دور کے اختتام سے پیشتر شام کے لیے روسی صدر کے خصوصی ایلچی الیگزینڈر لافرنتیو کا کہنا ہے کہ شام کے صوبے اِدلب میں کوئی وسیع عسکری آپریشن نہیں ہے۔ اس بیان سے اِدلب کو طاقت کے زور پر واپس لینے کے حوالے سے شامی حکومت کی جارحیت کے منصوبے کو دھچکا پہنچا ہے۔

سُوچی میں اجلاس کے اختتام بیان میں تمام فریقوں نے نومبر میں ایک اجلاس کے انعقاد پر اتفاق رائے کیا تاہم اس اجلاس کا مقام متعین نہیں کیا گیا۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے شامی پناہ گزینوں کی واپسی کو زیر بحث لانے کے لیے ستمبر میں آئندہ سربراہ اجلاس کا انکشاف کیا۔

ادھر شام کے آئین کی تشکیلِ نو کے حوالے سے روسی صدر کے ایلچی لافرنتیو کا کہنا ہے کہ شام کے واقعات کو آئین تشکیل دینے والی کمیٹی کے کام پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔

دوسری جانب شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی میستورا نے بتایا کہ آئینی کمیٹی کے حوالے سے آئندہ ستمبر میں ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

روس اور ترکی کے درمیان اس حوالے سے مفاہمت کی بات ہو رہی ہے کہ اِدلب صوبے کو ترکی کے زیر نگرانی فورسز کے کنٹرول میں رکھا جائے۔ ذرائع کے مطابق ترکی ایک ایسی آرمی تشکیل دینے کے لیے کوشاں ہے جس میں اعتدال پسند گروپ شامل ہوں اور وہ ترکی کی نگرانی میں رہیں۔