.

عراقی وزیراعظم بدعنوان سرکاری حکام کی فہرست جاری کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے بدعنوان سرکاری حکام کی ایک فہرست شائع کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے کیس بہت جلد عدلیہ کو بھیج دیے جائیں گے۔

عراقی وزیراعظم نے بدھ کو یہ اعلان ملک کے جنوبی شہروں میں حالیہ عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد کیا ہے۔ عراقی شہری 8 جولائی سے ملک کے جنوبی شہروں میں بالخصوص سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور وہ بدعنوان سرکاری عناصر کو ان کے عہدوں سے ہٹانے ، بنیادی شہری خدمات اور روزگار مہیا کرنے کے مطالبات کررہے ہیں۔

عراقی پارلیمان کے مطابق قومی خزانے سے 227 ارب ڈالرز کے سرکاری فنڈز غائب ہیں اور یہ تیل نکالنے اور برآمد کرنے والی کمپنیو ں نے مبینہ طور پر خرد برد کیے ہیں۔عراق کے تیل کی دولت سے مالا مال جنوبی شہر بصرہ اور دوسرے شہروں میں مظاہرین اپنے احتجاج کے دوران میں سرکاری خزانے میں غبن کی تحقیقات اور لوٹی گئی رقوم کی واپسی کے مطالبات کررہے ہیں ۔

اس عوامی احتجاجی تحریک کے بعد حیدر العبادی دوبارہ وزیراعظم منتخب ہونے کے لیے اب ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے مختلف اعلانات اور اقدامات کررہے ہیں،مگر نومنتخب پارلیمان میں سب سےزیادہ نشستوں کے حامل اتحاد کے سربراہ مقتدیٰ الصدر نے نئے وزیراعظم کے لیے کوئی چالیس کے قریب کڑی شرائط عاید کردی ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ پارلیمان کا کوئی رکن ، کوئی بدعنوان یا دہُری شہریت کا حامل سیاست دان ملک کا نیا وزیراعظم نہیں ہونا چاہیے اور نہ اس کا کسی مذہبی فرقے سے تعلق ہونا چاہیے بلکہ اس کو مکمل غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ان شرائط کے پیش نظر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حیدر العبادی کا مقتدیٰ الصدر کے بلاک کی حمایت کے بغیر دوبارہ وزیراعظم بننا ناممکنات میں سے ہے۔

سیاسی تجزیہ کار سند الشامرائی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حیدر العبادی اب مقتدیٰ الصدر کا انتخاب نہیں رہے ہیں۔ان کے پاس عراقی شہریت کے علاوہ برطانیہ کی بھی شہریت ہے اور انھوں نے اپنی جماعت الدعوہ سے اظہار لاتعلقی بھی نہیں کیا ہے۔