عراق : شیعہ ملیشیاؤں کی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکتیں ،الدجیل میں کرفیو نافذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراق کی حکومت نے شمالی صوبے صلاح الدین میں واقع قصبے الدجیل میں شیعہ ملیشیا اور مسلح قبائلی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں کے بعد کرفیو نافذ کردیا ہے۔

شیعہ ملیشیا عصائب اہل الحق کے جنگجوؤں نے اس قصبے میں داخل ہونے کے بعد متعدد شہریوں کو ہلاک کردیا ہے اور متعدد کو اغوا کر لیا ہے ۔اس سنی اکثریتی قصبے میں تشدد کے یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب ایک رپورٹ میں عراق کے مستقبل کی ایک خوف ناک تصویر پیش کی گئی ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ اس ملک میں ایک لاکھ بیس ہزار مسلح جنگجوؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے یونٹس ایران کی طاقتور گماشتہ قوت بن چکے ہیں۔

فنانشیل ٹائمز کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ گذشتہ پندرہ سال سے تشدد سے متاثرہ ملک میں ممکنہ باغیانہ فورس خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔اس نے ریاست کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر فرقہ ورانہ کشیدگی کو ہوا دی ہے۔

بعض عراقی اور مغربی حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ شیعہ نیم فوجی دستے سپاہِ پاسداران انقلاب ایران یا لبنان کی طاقتور شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے طرز پر ایک شیڈو قوت بن سکتے ہیں ۔

فنانشیل ٹائمز نے ایک عراقی جنرل کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’ الحشد الشعبی ایک ایرانی تخلیق ہے اور ا س کی قیادت ایران کے پیروکار لوگ کررہے ہیں۔ایران کے پاس سپاہ پاسداران انقلاب ہیں اور عرا ق کے پاس الحشد الشعبی ہیں‘‘ ۔

رپورٹ کے مطابق الحشد الشعبی نے شام میں بھی اپنے جنگجو بھیجے تھے۔وہ شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔ انھوں نے عراق میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی بھی دھمکیاں دی تھیں ۔

الحشد الشعبی یونٹس کے ڈپٹی لیڈر ابو مہدی المہند س پر امریکا نے 2009ء میں پابندیاں عاید کردی تھیں ۔ان پر عراق کے امن واستحکام کو نقصان پہنچانے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔امریکی محکمہ خزانہ نے ابو مہدی المہندس کی حزب اللہ بریگیڈز ملیشیا کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔

امریکی محکمہ خزانہ نے کہا تھا کہ ایران کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کے ایک مشیر تھے۔گذشتہ سال اکتوبر میں مسٹر مہندس کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں