.

عراق میں نماز جمعہ کے بعد ملک گیر مظاہرے جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے کئی بڑے شہروں میں آج جمعہ کو نماز جمعہ کے اجتماعات کےبعد مہنگائی، بدامنی اور ابتر معاشی صورت حال پرقابو پانے میں ناکامی پر حکومت کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں۔

عراق کے دارالحکومت بغداد میں ’العربیہ‘ کے نامہ نگار نے بتایا کہ جمعہ کے روز عراق کے جنوبی علاقوں، وسطی شہروں، دارالحکومت بغداد اور شمالی علاقوں میں ’حقوق مظاہرے‘ کے عنوان سے احتجاج کیا جا رہا ہے۔ نامہ نگار کے مطابق نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد لوگ مساجد سے ریلیوں کی شکل میں سڑکوں پر نکل رہےہیں۔

عراق میں یہ احتجاج سول سوسائٹی اور سوشل میڈیا پر جاری مہمات کے جلو میں جاری ہے۔ ان مہمات میں شہروں سے حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے مظاہرے کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

درایں اثناء عراقی پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر سلیم الجبوری اور الحکمہ گروپ کے سربراہ عمار الحکیم نے حکومت سےمطالبہ کیا ہے وہ شہریوں کے جائز مطالبات تسلیم کریں۔ دونوں رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ شہریوں ک معاشی حالات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے تاکہ ملک میں جاری احتجاج کا خاتمہ کیا جاسکے۔