.

سعودی عرب کا سلامتی کونسل سے حوثیوں کے خلاف متحرّک ہونے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے عالمی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے ایک خط میں اس بات کے ثبوت پیش کیے ہیں کہ جمعرات کے روز یمن کے شہر الحدیدہ میں ایک ہسپتال کو نشانہ بنانے اور دیگر شہری ٹھکانوں پر مارٹر گولے داغنے میں حوثی ملیشیا ملوث ہے۔

اقوام متحدہ میں اپنے مستقل مندوب عبداللہ المعلمی کے ذریعے پہنچائے جانے والے پیغام میں مملکت نے مطالبہ کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کے خلاف فوری اقدامات کیے جائیں تا کہ اس کو غیر مسلح کیا جائے اور متعلقہ قراردادوں پر عمل درامد کیا جا سکے۔

اس سے قبل یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے جمعے کی شام اس بات کے ثبوت پیش کیے کہ الحدیدہ صوبے میں شہریوں کو نشانہ بنانے اور ہسپتال پر مارٹر گولوں سے حملے میں باغی حوثیوں کا ہاتھ ہے۔

المالکی نے الحدیدہ میں الثورہ ہسپتال اور مچھلی بازار کو نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی۔ کارروائی میں درجنوں یمنی شہری جاں بحق ہو گئے۔ ترجمان نے تصدیق کی کہ عرب اتحاد کے طیاروں نے شہر پر کوئی فضائی حملہ نہیں کیا۔

دوسری جانب یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے سرگرم عرب عسکری اتحاد نے کہا ہے کہ وہ یمن کی باب المندب بندرگاہ اور جنوبی بحرِ احمر کے تحفظ کے لیے عالمی برادری کے نائب کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باب المندب کی حفاظت عالمی اورعلاقائی ذمے داری ہے مگر اس کے باوجود عرب اتحاد عالمی برادری کی نیابت میں باب المندب کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے۔

ادھر عالمی تنظیم صلیب احمر کے اعلان کے مطابق جمعرات کے روز الحدیدہ شہر پر بم باری کے نتیجے میں 55 شہری جاں بحق اور 170 زخمی ہو گئے۔ تنظیم کے مطابق دھماکوں کی وجوہات نامعلوم ہیں۔