.

’لبنان نے صدام حسین کی رقوم امریکا کے حوالے کردی تھیں‘

لبنانی بنکوں میں فوت یا لاپتا افراد کی رقوم کے بارے میں تنازع کی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی بنک آرگنائزیشن کے چیئرمین جوزف طربیہ نے ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا ہے کہ سنہ 2003ء میں عراق کے سابق صدر صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد ان کی لبنانی بنکوں میں رکھی گئی رقوم امریکا کےحوالے کر دی گئی تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سابق عراقی صدر نے بڑی رقم اپنے اور بعض اقارب کے ناموں کے ساتھ بنائے گئے اکاؤنٹس میں منتقل کی تھی جسے بعد ازاں امریکا کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

لبنانی بنک آرگنائزیشن کے ترجمان کی طرف سے یہ بیان ملک میں عراقی شہریوں کی طرف سے رکھی گئی رقوم کے تنازع کے منظر عام پر آنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

دو ہفتے قبل ایک عراقی نیٹ ورک نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس مصدقہ دستاویزات موجود ہیں جن میں عراق کے لاپتا یا فوت ہونے والے شہریوں کی رقوم کی ملکیت ثابت ہوتی ہے۔ مسٹر طربیہ کا کہنا تھا کہ موجودہ عراقی حکومت صدام دور کی حکومت کی قانونی وارث ہے۔ عراقی حکومت سے کوئی چیز چھپائی نہیں جاسکتی۔

ایک مشکوک نیٹ ورک کی طرف سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ سنہ 1999ء کے بعد عراق کے فوت یا لاپتا ہونے والے شہریوں کی متروکہ رقوم کے مالکانہ حقوق کے اس کے پاس ٹھوس ثبوت ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہ رقم اربوں ڈالر میں بنتی ہے۔ اس گروپ کا دعویٰ ہے کہ لبنانی بنکوں میں ڈیپازٹ کردہ اربوں ڈالر کی اس رقم کا وہ قانونی مالک ہے۔

لبنانی بنکوں میں سابقہ دور کے عراقی حکمران اور دیگر افراد کی رقوم کے بارے میں خبریں سامنے آنے کے بعد لبنان کے ڈائریکٹر سیکیورٹی جنرل کو بغداد جا کر وضاحت کرنا پڑی ہے۔

میجر جنرل عباس ابراہیم منگل کو بغداد گئے اور عراقی حکومت کو بتایا ان کے بنکوں میں صدام حسین کی طرف سے رکھوائی گئی تمام رقوم امریکی فیڈرل حکومت کو منتقل کردی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بنکوں میں موجود عراق رقوم کی ملکیت کا دعویٰ کرنے والے گروپ کے کچھ عناصر کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کا تعلق عراق کے ساتھ ہے۔ میجر جنرل ابراہیم نے کہا کہ وہ اس بات کی چھان بین کررہے ہیں کہ آیا بنکوں میں موجود عراقی شہریوں کی رقوم کے مالکانہ حقوق کا دعویٰ کرنے والے گروپ کے پیچھے کون سا مافیا کار فرما ہے۔