عراق : بصرہ میں مظاہرین کی پُلوں اور شاہراہوں کو بلاک کرنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں بصرہ کی مقامی حکومت کے صدر دفتر کے سامنے ایک مرتبہ پھر عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اتوار کو مظاہرین نے عمارت کا مرکزی دروازہ بلاک کر دیا۔

ادھر بصرہ صوبے میں احتجاج سے متعلق رابطہ کمیٹی نے بتایا ہے کہ معاشی حالات کی ابتری پر احتجاج کے لیے صوبے میں سب سے بڑے مظاہرے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ وفاقی اور مقامی حکومتوں نے اُن مطالبات کو پورا کرنے کے سلسلے میں اپنے وعدوں کو پورا نہ کیا جو رابطہ کمیٹی نے اُن دونوں کے حوالے کیے تھے۔

کمیٹی نے دھمکی دی ہے کہ پُر امن دھرنوں کی سطح میں اضافہ کیا جائے گا تا کہ یہ احتجاج کی زیادہ طاقت ور صورت اختیار کر لے ،،، اگر مظاہرین کے مطالبات کا مثبت طور پر جواب نہ دیا گیا تو پھر صوبے کے مرکزی پُلوں اور شاہراہوں کو بلاک کر دیا جائے گا۔

نجف میں شیعہ مرجع کے سکریٹری احمد الصافی نے جمعے کے روز اپنی تقریر میں کہا تھا کہ حقوق کے حصول کے واسطے عوامی مظاہرے جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ الصافی نے باور کرایا کہ "حقوق دیے نہیں جاتے یہ لینا پڑتے ہیں"۔

ادھر عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے بعض طبقوں کے لیے سرکاری نوکریاں مختص کرنے اور ملک کے جنوبی صوبے بابل میں خدماتی اور شہری منصوبوں پر عمل درامد کا اعلان کیا۔ اس بات کا اعلان بابل صوبے کے قبائلی عمائدین، چیدہ شخصیات اور مقامی حکومت کے عہدے داران کے ساتھ العبادی کی ملاقات کے دوران سامنے آیا۔ مذکورہ موقف عراق کے جنوبی صوبوں میں تقریبا ایک ماہ سے جاری عوامی احتجاج کی آگ بجھانے کی کاوشوں کی ایک کڑی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں