.

سعودی عرب کے اندرونی معاملے میں کینیڈا کی مداخلت قبول نہیں : بحرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین کی وزارت خارجہ نے کینیڈا کے موقف اور سعودی عرب کے اندرونی معاملات میں اُس کی مداخلت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس موقع پر بحرین برادر مملکت سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

سعودی عرب نے اتوار کے روز مملکت میں متعین کینیڈین سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے اسے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ریاض نے اوٹاوا میں متعین سعودی سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی SPA’‘ کے مطابق سعودی عرب نے کینیڈا کے ساتھ تمام تجارتی اور سرماریہ کاری کے دوطرفہ منصوبے معطل کر دیے ہیں اور مزید اقدامات کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کینیڈا کا "سِول سوسائٹی کے کارکنان" کے بارے میں بیان منفی اور حقائق کے منافی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت خارجہ کو معلوم ہوا ہے کہ کینیڈین وزارت خارجہ کی طرف سے سول سوسائٹی کے کارکنوں کی سعودی عرب میں گرفتاری اور ان سے ناروا سلوک کے بارے میں بے بنیاد اور من گھڑت دعویٰ کیا گیا ہے۔ کینیڈا کی طرف سے سعودی عرب پر زور دیا گیا ہے کہ وہ گرفتار سماجی کارکنوں کو فوری اور غیر مشروط طورپر رہا کرے۔

سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ کینیڈا کی وزارت خارجہ کا یہ دعویٰ کہ ریاض میں سماجی کارکنوں کو گرفتار اور ہراساں کیا جا رہا ہے ،،، من گھڑت اور حقائق سے انحراف ہے۔ سعودی عرب میں سول سوسائٹی کے نمائندوں کو نہیں البتہ سماج دشمن عناصر کو حراست میں لیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب بین الاقوامی انسانی حقوق کی پاسداری کرنے والا ملک ہے اور مملکت میں بنیادی انسانی حقوق پامال نہیں کیے جاتے۔ اس موقع پر کینیڈا کا موقف مملکت سعودی عرب کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت اور ممالک کے درمیان تعلقات کو کنٹرول کرنے والے تمام بین الاقوامی منشوروں کے خلاف ہے۔

خیال رہے کہ کینیڈا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں سعودی عرب میں سول سوسائٹی کے نمائندوں کی گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا، جس پر دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔