.

مصری کمپنی آیندہ سال سے اسرائیل سے گیس کی درآمد شروع کردے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک کمپنی اسرائیل سے 2019ء کی پہلی سہ ماہی میں گیس کی درآمد شروع کردے گی ۔مصری کمپنی اس سال فروری میں طے شدہ سمجھوتے کے تحت آیندہ دس سال کے دوران میں اسرائیل سے 15 ارب ڈالرز مالیت کی گیس درآمد کرے گی۔

مصر کے توانائی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ ’’ ابتدا میں کم مقدار میں گیس درآمد کی جائے گی ،پھر بتدریج اس میں اضافہ کردیا جائے گا اور ستمبر 2019ء تک یہ مکمل مقدار میں درآمد کی جائے گی‘‘۔اس ذریعے نے گیس کی قیمت یا مقدار کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

اسرائیل کی تمر اور لیوایا تھان گیس فیلڈز کمپنی کے شراکت داروں نے فروری میں بتایا تھا کہ وہ مصر کی ایک نجی کمپنی ڈولفینس ہولڈنگز کو آیندہ ایک عشرے کے دوران میں 64 ارب مکعب میٹر گیس مہیا کریں گے۔تاہم اس نے گیس کی برآمد کے آغاز کی کوئی تاریخ نہیں بتائی تھی۔

اسرائیل سے گیس کی درآمد کے اس سمجھوتے کے بعد مصر میں ایک تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ واضح رہے کہ مصر چند سال قبل تک اسرائیل کو گیس برآمد کیا کرتا تھا۔ مصری کمپنی اسرائیل سے گیس درآمد کرنے کے بعد اس کو کہیں اور برآمد کرنا چاہتی ہے۔ مصری حکام کو امید ہے کہ اس طرح ملک کو توانائی کا علاقائی مرکز بنانے میں مدد ملے گی۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ ان کی حکومت اسرائیل کے ساتھ گیس کی درآمد کے اس معاہدے میں فریق نہیں ہے۔البتہ مصری حکومت کی منظوری کے بعد معاہدے کی فریق دونوں نجی کمپنیاں گیس پائپ لائنز کے مقامی نیٹ ورک کو استعمال کریں گی اور مصر میں قدرتی گیس کو مائع گیس میں تبدیل کرنے کے اسٹیشن بھی استعمال کرسکیں گی۔