ہم نے حوثیوں سے سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا مطالبہ کیا : ایرانی پاسداران انقلاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک کمانڈر نے اعتراف کیا ہے کہ آبنائے باب المندب میں سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے والے حوثی حملے کا مطالبہ پاسداران انقلاب نے کیا تھا۔

ایرانی نیوز ایجنسی "فارس" کے مطابق پاسداران کے زیر انتظام "ثار اللہ" ہیڈکوارٹر کے آپریشنز کمانڈر ناصر شعبانی نے منگل کے روز ایک بیان میں انکشاف کیا کہ "ہم نے یمنیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ سعودی آئل ٹینکروں پر حملہ کریں ،،، جس پر وہ ایسا کر گزرے"۔

اس خبر کے پوسٹ ہونے کے چند منٹوں کے بعد "فارس" نیوز ایجنسی نے حوثی ملیشیا کی سپورٹ کے حوالے سے ایران کے صریح اعتراف کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا۔ شعبانی کے مطابق یمن میں حوثی ملیشیا اور لبنان میں حزب اللہ ملیشیا درحقیقت خطّے میں ایران کی تزویراتی گہرائی کی نمائندگی کرتی ہیں۔

یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب عسکری اتحاد نے بدھ 25 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ یمن کے مغربی ساحل کے سامنے آبنائے باب المندب میں سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں پر حوثیوں کی جانب سے کیے جانے والا حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ حملے میں ایک ٹینکر کو معمولی نقصان پہنچا جس کے بعد عرب اتحاد کے بحری جہازوں نے مداخلت کر کے حملے کو ناکام بنا دیا۔

واقعے کے بعد توانائی ، صںعت اور معدنی دولت کے سعودی وزیر خالد الفالح نے آبنائے باب المندب سے گزرنے والی سعودی خام تیل کی تمام کھیپوں کو روک دینے کا اعلان کیا۔ ہفتہ 4 اگست کو الفالح نے اعلان کیا کہ مملکت نے اس بندش کو ختم کرنے اور خام تیل کی ترسیل دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ عرب اتحاد کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ آبنائے باب المندب اور جنوبی بحر احمر میں جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے تمام تر ضروری اقدامات کر لیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں