ایران کوعالمی پابندیوں سے بچانے کے لئےعراقی ملیشیائیں سرگرم ہو گئیں

امریکی پابندیوں پرعراقی حکومت کا ردعمل شرمناک اور امریکی حمایت کا مظہر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران پرامریکا کی طرف سے سخت ترین اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کے اقدام کے رد عمل میں عراق کی ایران نواز ملیشیا نے تہران کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ایران کا محاصرہ توڑنے کی دھمکی دی ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق ’سید الشہداء بریگیڈُ‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے علاحدگی اور تہران پر اقتصادی پابندیوں کا نفاذ ناقابل قبول اقدامات ہیں۔ ہم ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے تہران کا معاشی محاصرہ توڑنے کے لیے ہرممکن اقدامات کریں گے۔

عراقی ملیشیا نے ایران پر عاید کردہ امریکی پابندیوں کے حوالے سے وزیر اعظم حیدر العبادی کے رد عمل کو شرمناک اور شکست خوردگی کی علامت قرار دیا اور کہا کہ ایران نے عراقی عوام کے لیے جو قربانیاں دی ہیں بغداد کو اس کا کوئی احساس نہیں۔ اگر ایران مدد نہ کرتا تو العبادی اس وقت اقتدار میں نہ ہوتے۔ عراقی حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ایران پر عاید کردہ امریکی پابندیوں کے خلاف سخت جوابی اقدامات کرے۔

خیال رہے کہ بدھ کو عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی حکومت ایران پر عاید کردہ امریکی پابندیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مظلموں اور کمزوروں کے دفاع سے عراق کا دفاع زیادہ ضروری ہے اور ہم سب سے پہلے عراقی مفادات کا تحفظ کریں گے۔

عراقی ملیشیا کے ایک دوسرے گروپ ’صادقون بلاک‘ کے صدر حسن سالم نے کہا کہ عراقی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایران کے حوالے اپنا مثبت کردار ادا کرے اور امریکی پابندیوں کے خلاف ایران کی مدد کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ہمارے لیے جان، مال اوراسلحہ کی قربانی دی اور داعش کو شکست دینے میں مدد فراہم کی۔ انہوں نے امریکی پابندیوں پر حکومت کے ردعمل کو شرمناک اور امریکی طرف داری قرار دیا۔

ادھر بدھ کو بغداد میں متعین ایرانی سفیر ایرج مسجدی نے سابق عراقی وزیراعظم نوری المالکی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ایران پر امریکا کی طرف سے نئی اقتصادی پابندیوں کے نفاذ سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں