.

تیونس میں میراث میں مساوات کے متنازع قانون پرعوام سراپا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں حکومت کی جانب سے منظور کردہ میراث میں مردو زن کی مساوات سے متعلق ایک متنازع قانون پر ہزاروں افراد نے احتجاج شروع کیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ہفتے کے روز دارالحکومت تیونسیہ میں نام نہاد سماجی اصلاحات کے خلاف ہزاروں افراد نے ریلی نکالی اور میراث میں مردو خواتین کے درمیان مساوات کے متنازع قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

احتجاجی مظاہرے میں مردوں کے ساتھ خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔ انہوں نے ہاتھوں میں قرآن پاک کے نسخےاٹھا رکھے تھے اور وہ متنازع قانون میراث کے خلاف شدید نعرے بازی کررہے تھے۔ مظاہرین نے ’ہم اپنے خون سے اسلام اور قرآن کی تعلیمات کا دفاع کریں گے‘ کے نعرے لگائے۔ مظاہرے کا اہتمام ترقی و انصاف قومی رابطہ کمیٹی برائے دفاع قرآن ودستور کی طرف سے کیا گیا تھا جس میں مذہبی شخصیات، جامعات کےاساتذہ اور دیگر افراد شامل ہیں۔

احتجاجی ریلی میں شریک ایک 22 سالہ درۃ فرح نے کہا کہ ہم یہاں اپنے دین کے بنیادی اصولوں کے دفاع کے لیے آئے ہیں۔ اسلام میں وراثت میں مردو خواتین کے درمیان مساوات نہیں اور ہم حکومت کی طرف سے قرآن کے احکامات کو تبدیل کی سازش کی مذمت کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ تیونس کی حکومت نے سنہ 2017ء کو سماجی اصلاحات کے تحت مردو زن کےدرمیان میراث میں عدم مساوات کے سابقہ قانون کو ختم کرکے مساوات قائم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ سابقہ قانون کے تحت میراث میں مردوخواتین کےدرمیان مساوات قائم کرنے پرسزائے موت مقررتھی مگر قانون میں ترمیم کے بعد شہریوں کو میراث میں بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر حصہ دار قرار دینے کی اجازت دے دی گئی تھی۔