.

امریکا کی ایران پر پابندیاں ، عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کا دورۂ تہران منسوخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے ایران کے خلاف امریکا کی اقتصادی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے تناظر میں اپنا طے شدہ دورہ منسوخ کردیا ہے۔

حیدر العبادی نے دبے لفظوں میں امریکا ان پابندیوں کی حمایت کی تھی اور ان کی کھل کر مخالفت نہیں کی تھی جس کی وجہ سے انھیں ایران میں کڑی تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے۔ان کے دفتر نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم نے اپنی مصروفیات کے پیش نظر اپنا دورہ منسوخ کیا ہے۔ البتہ وہ طے شدہ شیڈول کے مطابق منگل کو ترکی کے دورے پر جائیں گے۔

عراق کے سیاسی ذرائع کے مطابق ایران نے پہلے وزیراعظم کے دورے سے اتفاق کیا تھا لیکن بعد میں اس نے اپنا ارادہ تبدیل کر لیا ہے کیونکہ وہ حیدر العبادی کے بیان سے ناخوش تھا۔

عراق کے ایک عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہفتے کے روز بتایا تھا کہ ’’ وزیراعظم حیدر العبادی منگل کو ترکی جائیں گے اور بدھ کو ایران کے دورے پر جائیں گے۔وہ ان دونوں ملکوں کی قیادت سے اقتصادی تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے‘‘۔

حیدر العبادی نے گذشتہ منگل کو کہا تھا کہ عراق ایران کے خلاف امریکا کی عاید کردہ نئی پابندیوں پر متردد انداز میں عمل درآمد کرے گا۔اسی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں نافذ کی تھیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’ ہم ان پابندیوں کی حمایت نہیں کرتے ہیں کیونکہ یہ ایک تزویراتی غلطی ہیں لیکن ہم ان کی پاسداری کریں گے‘‘۔

عراق امریکا کا تزویراتی شراکت دار اور اتحادی ہے۔اس نے امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد کی فوجی مہم کی بدولت ہی اس سخت گیر جنگجو گروپ کے خلاف فتح حاصل کی تھی لیکن اس کے ایران کے ساتھ بھی مضبوط تعلقات استوار ہیں اور ایران اس کی داخلی سیاست اور دوسرے امور میں پوری طرح دخیل ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بغداد میں موجود نمائندے مجتبیٰ الحسین نے حیدر العبادی کے اس موقف کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور پھر انھوں نے ایران کا دورہ منسوخ کرنے کا ا علان کردیا ہے۔

مجتبیٰ الحسین نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ ان غیر ذمے دارانہ ریمارکس کی پہلے ہی بہت سے لوگ مذمت کرچکے ہیں۔ یہ ایران کے دیانت دارانہ موقف اور اس ملک کے شہداء نے عراق کی سرزمین کے دفاع اور انتہا پسند وں کے خلاف جنگ میں جو خون بہا یا ہے،اس سے تو یہ بے وفائی کا رویہ ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ ہمیں اس موقف پر افسوس ہوا ہے،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امریکیوں کے مقابلے میں نفسیاتی طور پر شکست خوردہ ہوچکے ہیں‘‘۔

دوسری جانب تہران میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے عراقی وزیراعظم کے دورے کی منسوخی کے حوالے سے محتاط ردعمل اختیار کیا ہے ۔ایرا ن کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا کے مطابق ترجمان کا کہنا تھا کہ انھیں دورے کی منسوخی کے بارے میں باضابطہ طور پر کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔