سلط شہر میں گرفتار افراد تکفیری سوچ رکھتے ہیں : اردن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کے وزیر داخلہ سمیر مبیضین کا کہنا ہے کہ ملک کی سکیورٹی فورسز نے سلط شہر کے واقعات میں اعلی درجے کی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اور 12 گھنٹوں سے کم وقت میں آپریشن مکمل کر لیا۔

پیر کے روز حکومت کی سرکاری ترجمان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں مبیضین نے بتایا کہ دارالحکومت عَمّان کے مغرب میں واقع شہر سلط میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران 3 دہشت گرد ہلاک ہوئے جب کہ متعدد کو گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کارروائی کے دوران سکیورٹی ٹھکانوں پر حملوں کے حوالے سے دیگر دہشت گرد منصوبوں کا انکشاف بھی ہوا۔ وزیر داخلہ کے مطابق چھاپوں میں گرفتار ہونے والے افراد تکفیری فکر کے حامل ہیں۔ سلط میں دہشت گرد گروہ کی جانب سے چھپائے گئے دھماکا خیز آلات بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

اس موقع پر اردن کی حکومتی ترجمان اور وزیر اطلاعات جمانہ غنیمات نے کہا کہ "ہمیں انتہا پسندی کے انسداد کے لیے اپنی حکمت عملی کو ترقی دینا ہو گی"۔ انہوں نے واضح کیا کہ زیر گردش جھوٹی خبروں اور غیر درست ناموں کے سبب کارروائی میں رخنہ پیدا ہوا۔

غنیمات کے مطابق سلط آپریشن کی پیش رفت کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کو مسلسل آگاہ کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں