.

یمن میں امریکی سفیر جنیوا میں آئندہ مذاکرات کے نتائج کے حوالے سے پُر اُمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں امریکی سفیر میتھیو ٹولر کا کہنا ہے کہ ستمبر میں جنیوا میں ہونے والی مشاورت اعتماد سازی کے اقدامات کو زیر بحث لانے کے لیے منعقد ہو گی، یہ یمن میں جاری تنازع کے ایک جامع حل تک پہنچنے کی جانب قدم ہے۔

ٹولر نے بدھ کے روز مصری دارالحکومت قاہرہ میں ایک چھوٹی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ "میں نے یمن میں تنازع کے دونوں فریقوں سے ملاقات کی ہے اور انہوں نے پیشگی شرائط کے بغیر اس مشاورت میں شمولیت کے لیے تیار ہونے کا اظہار کیا ہے"۔

ٹولر نے اس امید کا اظہار کیا کہ مشاورت کا آئندہ دور مثبت نتائج کا حامل ہو گا۔ ٹولر کے مطابق "ہم توقع کر رہے ہیں کہ مذاکرات کے نتائج انتہائی معمولی ہوں گے، تاہم یہ جتنے بھی معمولی ہوں بہرکیف یمنیوں کی امیدوں کو بلند کریں گے"۔

امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ مشاورت کے آئندہ دور کے نتائج میں قیدیوں اور گرفتار شدگان کا معاملہ، تجارتی اور شہری پروازوں کے لیے ہوائی اڈوں کا کھولا جانا اور یمنی کرنسی کے نرخ کے استحکام کے لیے مرکزی بینک کے ساتھ اقدامات شامل ہوں گے۔

میتھیو ٹولر کے مطابق یہ مشاورت یمن کی آئینی حکومت اور حوثیوں کے درمیان ہو گی۔

امریکی سفیر نے خلیجی منصوبے ، قومی مکالمہ کانفرنس کی سفارشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو یمن کے پُر امن حل کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ یہ یمنی عوام کی امیدوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ حوثی جماعت کی قیادت میں ایسے عناصر ہیں جو ایرانی رسوخ کے تابع ہیں اور وہ امن مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے تیار نہیں۔

امریکی سفیر نے زور دیا کہ یمن کے حل کا آغاز حوثی جماعت کو غیر مسلح کیے جانے سے ہو گا اور یہ ہی امر اقوام متحدہ کی قرار داد 2216 میں شامل ہے۔

میتھیو ٹولر کے مطابق حوثیوں کی جانب سے قبضے میں لیا گیا تمام اسلحہ آئینی حکومت کو واپس لوٹایا جانا چاہیے۔ البتہ حوثیوں کا موقف ہے کہ وہ اپنا اسلحہ ایسی حکومت کے حوالے کرنے کو تیار نہیں جو اُن کو تحفظ فراہم نہیں کر رہی ہے۔