.

حماس اور اسرائیل مصر کی ثالثی کے تحت جنگ بندی معاہدے کے قریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی سفارتی مساعی سے فلسطینی مزاحمتی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] اور اسرائیل غزہ کی پٹی کے علاقے میں جنگ بندی کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

’العربیہ‘ چینل کے مطابق فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کےمذاکرات کار اس وقت قاہرہ میں موجود ہیں۔ دوسری طرف مصری حکومت کا ایک سیکیورٹی وفد اسرائیل کے دورے کے بعد واپس قاہرہ پہنچ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مصری وفد نے غزہ میں فریقین میں طویل جنگ بندی کے امور پر بات چیت کی ہے۔ مصری وفد نے اسرائیلی حکام سے ملاقات میں مطالبہ کیا کہ وہ غزہ پر حملے بند، علاقے کی کئی سال سے جاری ناکہ بندی ختم، طبی سامان اور دیگر بنیادی ضرورت کا سامان غزہ کو سپلائی پرعاید پابندی ختم، ایک سال کے لیے غرب اردن میں یہودی کالونیوں کی تعمیر بند اور غزہ میں اندھا دھند گرفتاریوں کا سلسلہ بند کرے۔

مصر ایک طرف حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی مساعی جاری رکھے ہوئے ہے تو دوسری طرف حماس اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان مصالحتی عمل کی بھی نگرانی کررہا ہے۔

مصر کے سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین میں جنگ بندی کی مدت ایک سال ہوگی جس میں تمام امور کو جامع انداز میں پیش کیا جائے گا۔ جنگ بندی میں غزہ میں جنگی قیدی بنائے گئے اسرائیلیوں کی رہائی کی تجویز شامل ہے۔ دوسری طرف مسجد اقصیٰ کو فلسطینی نمازیوں کے لیے بند کرنے کی اسرائیلی پالیسی پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حماس سے کہا گیا ہے کہ وہ غزہ سے اسرائیل پر راکٹ باری نہیں کرے گی جب کہ جواب میں اسرائیل حماس کی قیادت پر قاتلانہ حملے بند کردے گا۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان سے فلسطینی دھڑوں کے درمیان مصالحت کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ اس وقت فلسطین کی تمام نمائندہ قوتوں کے مندوبین قاہرہ میں موجود ہیں جو اسرائیل سے جنگ بندی کے ساتھ ساتھ باہمی مصالحت پر بھی بات چیت کررہے ہیں۔