ایرانی رکن پارلیمنٹ کا رفسنجانی کی موت کی دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی مجلس شوریٰ [پارلیمنٹ] کے ایک سرکردہ رکن اور سینیر تجزیہ نگار علی مطہری نے سابق صدر اور گارڈین کونسل کے چیئرمین علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی وفات کے اسباب کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہاشمی رفسنجانی کی وفات کے بارے میں سرکاری موقف مشکوک اور ناقابل اعتبار ہے۔ ایران کی انٹیلی جنس وزارت رفسنجانی کی موت کے حقیقی اسباب کا پتا چلانے کے لیے جامع اور آزادانہ تحقیقا کرائے۔

اپنے ایک حالیہ مضمون میں انہوں نے لکھا ہے کہ موجودہ ایرانی صدر حسن روحانی کو بعض ذرائع سے دھمکیاں دی گئی ہیں کہ اگرانہوں نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کیے تو ان کا انجام بھی رفسنجانی جیسا ہوگا۔ اس سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کو بھی کسی سازش کے تحت مارا گیا ہے، کیونکہ وہ بھی امریکا اور مغرب سے مذاکرات کے حامی تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ شک اب بھی موجود ہے کی علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی موت طبیعی نہیں تھی۔ انہوں نے ’قُم‘ شہر کے ایک مذہبی مدرسے کے شدت پسند مذہبی رہ نما کی طرف سے جاری کردہ دھمکی آمیز بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے صدر روحانی کو خبردار کیا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات نہ کریں ورنہ ان کا انجام بھی رفسنجانی جیسا ہوگا۔

علی مطہری کا کہنا ہے کہ اگر رفسنجانی کی موت طبعی نہیں تھی توحکومت کو ان کی موت کے اسباب ومحرکات جاننے کے لیے آزادانہ تحقیقات کرانی چاہئیں۔

خیال رہے کہ سابق صدرعلی اکبر ہاشمی رفسنجان اتوار 8 جنوری 2017ء کو 83 سال کی عمرمیں انتقال کرگئے تھے۔ سرکاری بیان کے مطابق رفسنجانی کو وفات سے قبل تہران کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے تاہم بعض لوگوں کا خیال ہے کہ رفسنجانی کی موت کا سبب دل کی تکلیف نہیں تھی۔ انہیں امریکا اور عرب ممالک سے مذاکرات کے مطالبے پرایک سازش کے تحت مارا گیا۔

رفسنجانی کے ایک سابق مشیر غلام علی رجائی نے 9 جون کو اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ علی رفسنجانی کی موت کے اسباب طبیعی نہیں تھے بلکہ ان کی موت مشکوک انداز میں ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں