حوثیوں کی نصر اللہ سے ملاقات حزب اللہ کے ہاتھوں ہمارے امن کے بگاڑ کی دلیل ہے : یمن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا میں یمنی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ حوثی جماعت کے ایک وفد کا لبنان کا دورہ اور وہاں حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ سے ملاقات اس بات کا نیا ثبوت ہے کہ حزب اللہ یمن کو عدم استحکام سے دوچار کرنے میں کردار ادا کر رہی ہے۔

سفارت خانے نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ یہ ثبوت حوثیوں کے لیے حزب اللہ تنظیم کی جانب سے سپورٹ کی ایک کڑی ہے۔

حوثیوں کے وفد کا دورہ جنیوا میں امن بات چیت کے نئے دور سے دو ہفتے قبل سامنے آیا ہے۔

اقوام متحدہ جمعے کے روز یمن میں آئینی حکومت اور حوثی ملیشیا کو 6 ستمبر کو جنیوا میں امن بات چیت میں شرکت کی دعوت دے چکی ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کی ترجمان ایلساندرا ویلوچی نے بتائی۔

اس سے قبل یمن میں امریکی سفیر میتھیو ٹولر نے بتایا تھا کہ ستمبر میں جنیوا میں ہونے والی مشاورت اعتماد سازی کے اقدامات کو زیر بحث لانے کے لیے منعقد ہو گی، یہ یمن میں جاری تنازع کے ایک جامع حل تک پہنچنے کی جانب قدم ہے۔

ٹولر نے بدھ کے روز مصری دارالحکومت قاہرہ میں ایک چھوٹی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ "میں نے یمن میں تنازع کے دونوں فریقوں سے ملاقات کی ہے اور انہوں نے پیشگی شرائط کے بغیر اس مشاورت میں شمولیت کے لیے تیار ہونے کا اظہار کیا ہے"۔

ٹولر نے اس امید کا اظہار کیا کہ مشاورت کا آئندہ دور مثبت نتائج کا حامل ہو گا۔ ٹولر کے مطابق "ہم توقع کر رہے ہیں کہ مذاکرات کے نتائج انتہائی معمولی ہوں گے، تاہم یہ جتنے بھی معمولی ہوں بہرکیف یمنیوں کی امیدوں کو بلند کریں گے"۔

امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ مشاورت کے آئندہ دور کے نتائج میں قیدیوں اور گرفتار شدگان کا معاملہ، تجارتی اور شہری پروازوں کے لیے ہوائی اڈوں کا کھولا جانا اور یمنی کرنسی کے نرخ کے استحکام کے لیے مرکزی بینک کے ساتھ اقدامات شامل ہوں گے۔

میتھیو ٹولر کے مطابق یہ مشاورت یمن کی آئینی حکومت اور حوثیوں کے درمیان ہو گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھ جامع حل کو یقینی بنانے کے سلسلے میں ایک وژن رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں