ایران اور قطر عراق میں بڑے سیاسی بلاک کی تشکیل میں حائل ہوگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراق میں ذرائع نے ایران اور قطر کو گذشتہ اتوار کی شب سیاسی بلاکوں کے لیڈروں کے ا یک اہم اجلاس کی ناکامی کا ذمے دار قرار دیا ہے۔ان دونوں ملکوں نے عراق کے کرد اورسنی بلاکوں پر اس اجلاس کے بائیکاٹ کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔اس میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے لائحہ عمل اور نیا پارلیمانی بلاک تشکیل کیا جانا تھا۔

ذرائع کے مطابق ایران کا صدری تحریک کی قیادت میں ایک بڑے بلاک کی تشکیل کو روکنے میں کردار اب کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ اس مجوزہ نئے بلاک میں شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی اور سابق وزیراعظم نوری المالکی کو شامل نہیں کیا جارہا ہے۔یہ دونوں ایران کے زیادہ نزدیک ہیں۔ایران تو پہلے ہی عراق میں نئی حکومت کی تشکیل میں مداخلت کررہا ہے لیکن اب قطر نے بھی عراق کے داخلی امور میں مداخلت شروع کردی ہے۔

بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون سے باہر واقع بابل ہوٹل میں اتوار کو عراق کے مختلف پارلیمانی بلاکوں کا مشترکہ اجلاس ہوا تھا۔اس اجلاس میں مدعو شرکاء میں وزیراعظم حیدر العبادی ، شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر ، الحکمہ تحریک کے سربراہ عمار الحکیم ، ایاد علاوی اور صالح المطلک شامل تھے۔

واضح رہے کہ حیدر العبادی کے النصر بلاک نے مئی میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں 42 نشستیں حاصل کی تھیں ۔ مقتدیٰ الصدر کے سیرون بلاک نے سب سے زیادہ 54، عمار الحکیم کے اتحاد نے 20، ایاد علاوی اور صالح المطلک کے قومی بلاک نے 25 اور سنی قومی بلاک نے 35 نشستیں جیتی ہیں۔ ان کے علاوہ دو بڑی کرد جماعتوں کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔ان دونوں کی قریباً 40 نشستیں ہیں۔

تاہم اس اجلاس میں کرد اور سنی قومی محوری اتحاد کے نمائندوں نے شرکت نہیں کی تھی جس کی وجہ سے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے ایک بڑا پارلیمانی بلاک قائم نہیں کیا جاسکا ہے۔

بغداد میں ذرائع نے بتایا ہے کہ سپاہ ِ پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی نے کرد لیڈروں سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد انھوں نے اس اجلاس سے غیر حاضر رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔

قطری حکام نے بھی خفیہ طور پر ایک سنی رہ نما خامس آل خنجار سے رابطہ کیا تھا۔ وہ القرار اتحاد کے سربراہ ہیں۔انھوں ہی نے پھر سنی قومی محوری اتحاد کے لیڈروں پر بابل ہوٹل میں منعقدہ اجلاس کے بائیکاٹ کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں