غلاف کعبہ کی تبدیلی کا عمل تصاویر کے آئینے میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ہرسال کی طرح اس بار بھی حج کے موقع پر 9 ذی الحج نماز فجر کے بعد خانہ کعبہ کا غلاف تبدیل کردیا گیا۔ حرمین شریفین کے امور کے ذمہ دار محکمے کی زیر نگرانی غلاف کعبہ کی تبدیلی کے عمل میں 160 ماہرین نےحصہ لیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نو ذی الحج کوغلاف کعبہ کی تبدیلی کا عمل حرمین شریفین کے نگران ادارے کے سربراہ اور امام کعبہ الشیخ عبدالرحمان السدیس کی زیر نگرانی ہوا۔

اس موقع پر غلاف کعبہ کی تیاری کے ذمہ دار ادارے شاہ عبدالعزیز آڈیٹوریم کے ڈائریکٹر جنرل احمد بن محمد المنصوری نے بتایا کہ نماز فجرکی ادائی کے بعد پرانے غلاف کعبہ کی جگہ نیا غلاف کعبہ خانہ کعبہ کی زینت بنا دیاگیا۔ نیا غلاف کعبہ چار برابر پٹیوں اور ستارۃ الباب پر مشتمل ہے۔ خانہ کعبہ کے چاروں اطراف کی پٹیوں کو الگ الگ تیار کیا جاتا ہے۔ تبدیلی کے عمل کے دوران پہلے ایک طرف کا حصہ اتار جاتا ہے اور اس پر کی جگہ نیا غلاف چڑھا دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد دوسرا، تیسرا اور چوتھا حصہ اتارا جاتا اور اسی ترتیب کے ساتھ نیا غلاف چڑھایا جاتا ہے۔

خانہ کعبہ میں سب سے پہلے الحطیم کی طرف سے غلاف کعبہ کو کھولا جاتا اور اس کی جگہ نیا غلاف ڈالا جاتا ہے۔ غلاف کعبہ کو اوپر سے نیچے کی طرف پھیلایا جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں المنصوری نے کہا کہ غلاف کعبہ مختلف مقدس عبارات یا آیات سے منقش کیا جاتا ہے جس پر ’یا اللہ یا اللہ، لا إله إلا الله محمد رسول الله، سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظيم، اور’ يا ديان يا منان‘ کے الفاظ منقش ہیں۔

اس کے علاوہ غلاف کعبہ میں مجموعی طورپر 16 مختلف پٹیاں شامل کی جاتی ہیں۔ ان میں چھ اضافی پٹیاں بھی شامل ہیں۔ زیریں پٹی میں 12 شمعوں کی اضافی پٹیاں شامل کی جاتی ہیں۔ ان میں سے چار پٹیوں کو ارکان کعبہ کے ساتھ لگایا جاتا ہے۔’ اللہ اکبر‘ کے الفاظ پر مشتمل پانچ شمعیں حجر اسود کے اوپر باب کعبہ کے بیرونی پردے پر لگائی جاتی ہیں۔

المنصوری نے بتایا کہ غلاف کعبہ کی تیاری میں 670 کلو گرام خام ریشم استعمال کیا جاتا ہے جس کے اندرونی حصے کو سیاہ رنگ میں رنگا جاتا ہے۔ 120 کلو گرام سنہری دھاگہ اور 100 کلو گرام چاندی کا دھاگہ استعمال کیا جاتا ہے۔

غلاف کعبہ کی تیاری کے لیے قائم کردہ شاہ عبدالعزیز کارخانے میں 200 ماہرین اور منتظمین کام کرتے ہیں۔ ان تمام کا تعلق سعودی عرب سے ہے اور وہ اپنے اپنے شعبے کے ماہر اور اعلیٰ تربیت یافتہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں