قطر اور ایران عراقی پارلیمنٹ میں سب سے بڑے بلاک کی تشکیل کی راہ میں حائل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی ذرائع نے دارالحکومت بغداد کے بابل ہوٹل میں ہونے والے سیاسی گروپوں کی قیادت کے اجلاس کی عدم کامیابی کا ذمّے دار ایران اور قطر کی مداخلتوں کو ٹھہرایا ہے۔ دونوں ممالک نے رابطے کر کے کُردوں اور سُنّی عربوں پر اس اجلاس کے بائیکاٹ کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

ایران کا شرم ناک کردار تو عیاں ہو چکا ہے جس کا مقصد الصدری گروپ کے زیر قیادت سب سے بڑے بلاک کی تشکیل کو روکنا ہے۔ البتہ قطر کا خفیہ کردار گزشتہ چند روز کے دوران بے نقاب ہوا۔

اتوار کی شام بغداد میں گرین زون کے باہر واقع بابل ہوٹل میں ایک اجلاس ہوا۔ اجلاس میں پارلیمنٹ میں سب سے بڑے بلاک کا اعلان کیا جانا تھا جو 100 سے زیادہ نشستوں پر مشتمل ہونا تھا۔

اجلاس میں جن شخصیات کو دعوت دی گئی تھی اُن میں موجودہ وزیراعظم اور النصر گروپ (42 نشستیں) کے سربراہ حیدر العبادی، السائرون گروپ (54 نشستیں) کے سربراہ مقتدی الصدر، الحکمہ گروپ (20 نشستیں) کے سربراہ عمار الحکیم، نیشنل گروپ (25 نشستیں) کے دو سربراہان ایاد علاوی اور صالح المطلق، المحور الوطنی سُنّی گروپ (35 نشستیں) کی قیادت اور کُردوں کی دو مرکزی سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں جن کی ملا کر 40 کے قریب نشستیں ہیں۔

تاہم اجلاس میں کُردوں اور المحور الوطنی سُنّی گروپ کے نمائندے غیر حاضر رہے جس کے نتیجے میں پارلیمںٹ میں حکومت کی تشکیل دینے کے لیے مطلوب بلاک کی تشکیل ناکامی سے دوچار ہو گئی۔

بغداد کے ذرائع کے مطابق ایرانی "القُدس فورس" کے کمانڈر قاسم سلیمانی نے کرد قیادت کے ساتھ ملاقات کی تھی جس کے نتیجے میں کُردوں نے بغداد کے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

علاوہ ازیں قطری ذمّے داران نے بھی عراقی رہ نما خمیس الخنجر سے خفیہ رابطے کیا جو قطر اور ایران کے مقرّب ہیں۔ الخنجر نے اپنے طور پر المحور الوطنی سُنّی گروپ پر دباؤ ڈالا تا کہ وہ بابل ہوٹل کے اجلاس کا بائیکاٹ کر دے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں